صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 29
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۹ ۸۸ کتاب استتابة المرتدين کے ساتھ شروع میں بالکل اسی طرح بات چیت جاری رکھی جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفراء کے ذریعہ باغیوں سے مذاکرات فرماتے تھے مگر عبس اور ز بیان قبائل نے مدینہ پر لشکر کشی کر دی اور اپنے ہاں کے نہتے مسلمانوں کو بُری طرح قتل کرنا شروع کر دیا۔دوسرے قبائل نے بھی ایسا ہی کیا۔اس پر حضرت ابو بکر نے قسم کھائی کہ وہ ایک ایک مسلمان کے بدلہ ایک ایک باغی کو ماریں گے بلکہ زیادہ کو ماریں گے۔پھر آپ نے ایسا ہی کیا۔آپ نے خالد بن ولید کو پیغام بھیجا کہ تم ہر اس باغی کو جس نے کسی مسلمان کو قتل کیا پکڑتے ہی عبرت ناک طور پر قتل کر دو۔مرتدین کی چھاؤنیاں ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات سے قبل حضرت عمرو بن العاص کو جیفر (عمان) کی طرف بھیجوایا تھا۔وہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد واپس لوٹے تو باغیوں کے حالات معلوم کرنے کے لئے مسلمان ان کے گرد جمع ہو گئے۔انہوں نے بتایا کہ دبا سے لیکر مدینہ تک کے سارے راستہ میں مرتدین چھاؤنیاں ڈالے پڑے ہیں۔“ اسود عنسی کے حالات ارتداد و بغاوت کی ابتداء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے زمانہ میں اسود عنسی نے یمن کے علاقہ میں کی۔مذحج قبیلہ اس کے ساتھ مل گیا اور اس کی بغاوت کا فتنہ جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے لگا۔اس کے ساتھ مل جانے والے باغیوں کی فوج میں پیادوں کے علاوہ سات سو گھڑ سوار تھے۔اس نے اسلامی حکومت کے عمال کو دھمکی دی کہ اے غاصبو! ہمارا ملک ہمارے حوالے کر دو۔جو مال تم نے جمع کئے ہیں وہ بے شک لے لو مگر ہماری سرزمین سے نکل جاؤ۔پھر انہوں نے مسلمان عمال کو نکال کر ان کی جگہ عمرو بن حزم اور خالد بن سعید کو حاکم مقرر کر دیا۔بعد ازاں اسود اپنی فوج لے کر صنعاء پر حملہ آور ہوا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ عامل شہر بن باذان کو قتل کر کے صنعاء پر قابض ہو گیا اور دوسرے مسلمانوں کو قتل کیا۔حضرت معاذ بن جبل نے بھاگ کر جان بچائی اور مارب پہنچ کر حضرت ابو موسیٰ الاشعری 66