صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 508
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۵۰۸ -۹۴- كتاب التمني ۷۲۳۷: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۷۲۳۷: عبد اللہ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو معاويه بن عمرو نے ہمیں بتایا کہ ابو اسحاق نے ہم إِسْحَاقَ عَنْ مُّوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمٍ سے بیان کیا۔انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے ، موسیٰ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ نے سالم ابو نفر سے جو حضرت عمر بن عبید اللہ کے وَكَانَ كَاتِبًا لَهُ قَالَ كَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ آزاد کردہ غلام اور ان کے کاتب تھے ، روایت کی۔انہوں نے کہا: حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی نے اُن کو خط لکھا اور میں نے اسے پڑھا تو اس میں یہ مضمون تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دشمن سے مقابلہ کرنے کی آرزو مت کرو اور اللہ سے بْنُ أَبِي أَوْفَى فَقَرَأْتُهُ فَإِذَا فِيهِ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُقِ وَسَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ۔أطرافه ۲۸۱۸، ٢٨۳۳، ٢٩٦٦، ٣٠٢٤ - عافیت مانگتے رہو۔تشریح : كَرَاهِيَةُ تَمَنِي لِقَاء العدو: دشمن سے مقابلہ کی آرزو کرنے کو ناپسند کرتا۔حضرت ت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کون ہے جو دشمن کے حملہ کی تمنا کیا کرتا ہے۔ظاہر ہے کہ جہاں تک لڑائی کا تعلق ہے جہاں تک مرنے کا تعلق ہے جہاں تک تکالیف کا تعلق ہے ، کوئی شخص بھی دشمن کے حملہ کی تمنا نہیں کر سکتا مگر مسلمان ایسی حالت میں تھے کہ ان کے دل اسی نکتہ کے ماتحت جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے بعض دفعہ خواہش کر سکتے تھے کہ کاش ہمارا دشمن ہم پر حملہ کرے تاکہ ہمارا خدا پھر ہماری مدد کے لئے ہمارے پاس آجائے۔پس صرف یہی وجہ تھی جس کو مد نظر رکھتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے مسلمانو! جب دشمن تم پر حملہ کرتا ہے تو خدا تمہارے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے اور یہ بات تمہیں اتنی لذیذ معلوم ہوتی ہے اور تمہیں اس میں اتنا مزا آتا ہے کہ جب دشمن حملہ چھوڑ دیتا ہے تو تم کہتے ہو : کاش ہمارا دشمن ہم پر پھر حملہ کرے تا ہمارا خدا پھر ہمارے پاس آجائے۔مگر یہ خواہش جہاں تک عشق کا سوال ہے وہاں تک تو درست ہے لیکن انہی حکمتوں اور منشاء کے خلاف ہے اس لئے خدا تعالیٰ کے ادب کے لحاظ سے ایسی خواہشات مت کیا کرو۔ہاں جب دشمن تم پر خود بخود حملہ کر دے گا اور