صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 507
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۰۷ ۹۴ - كتاب التمني بْنِ عَازِبٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله ابو اسحاق نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ مَعَنَا التَّرَابَ يَوْمَ براء بن عازب سے روایت کی۔انہوں نے کہا: جنگ الْأَحْزَابِ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ وَارَى التَّرَابُ احزاب کے دن نبی صلی الی یکم ہمارے ساتھ مٹی ڈھو بَيَاضَ بَطْنِهِ يَقُولُ: رہے تھے اور میں نے آپ کو دیکھا کہ مٹی نے آپ کے پیٹ کی سفیدی کو ڈھانپ لیا تھا۔آپؐ فرماتے تھے: لَوْ لَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا اگر تو نہ ہوتا تو ہم کبھی راہ راست نہ پاتے اور نہ وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا صدقہ دیتے اور نہ نمازیں پڑھتے۔اس لئے تو ہم فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةٌ عَلَيْنَا پر سکینت نازل فرما۔انہوں نے، کبھی راوی نے إِنَّ الْأُلَى - وَرُبَّمَا قَالَ - یوں کہا: انہی لوگوں نے ہم پر تعدی کی ہے۔جب إِنَّ الْمَلَا قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا کبھی انہوں نے فساد کرنا چاہا ہے ہم نے اس کا انکار إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةٌ أَبَيْنَا أَبَيْنَا کیا، ہم نے اس کا انکار کیا۔يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ۔آپ ان الفاظ پر اپنی آواز کو بلند کرتے۔أطرافه ۲٨٣٦، ۲۸۳۷، ۳۰۳۴، ٤١٠٤، ٤١٠٦، ٦٦٢٠۔تشریح قَوْلُ الرَّجُلِ لَوْلَا اللهُ مَا اهْتَدَيْنَا : آدمی کا یہ کہنا اگر اللہ نہ ہوتا تاہم راہ راست نہ پاتے۔علامہ ابن بطال بیان کرتے ہیں کہ عربوں کے نزدیک کلمہ ”گولا“ ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے جب کسی کی موجودگی کی وجہ سے کوئی چیز روکی گئی ہو۔جیسا کہ کہتے ہیں: لَوْلَا زَيْدُ مَا صِرْتُ إِلَيْكَ- اگر زید نہ ہوتا تو میں تمہارے پاس نہ آتا۔یعنی میر اتمہاری طرف آنازید کی وجہ سے ہے۔اسی طرح جملہ لَوْلَا اللهُ مَا اهْتَدَيْنَا کا مفہوم یہ ہے کہ ہمارا ہدایت پانا اللہ تعالیٰ کی وجہ سے ہے۔(فتح الباری، جزء ۱۳ صفحہ ۲۷۴) باب ۸: كَرَاهِيَةُ تَمَنِّي لِقَاءَ الْعَدُةِ دشمن سے مقابلہ کی آرزو کرنے کو نا پسند کرنا وَرَوَاهُ الْأَعْرَجُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ اور اعرج نے حضرت ابوہریرہ سے، اُنہوں نے النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔