صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 509
صحيح البخاری جلد ۱۶ 0+9 ۹۴ - كتاب التمني تمہارا خدا تعالیٰ سے سچا تعلق ہو گا تو یہ ممکن ہی نہیں کہ خدا تعالیٰ تمہیں چھوڑ دے کیونکہ خدا تعالیٰ کی یہ دائمی سنت ہے کہ وہ اپنے رسولوں کی بھی مدد کرتا ہے اور ان لوگوں کی تائید کے لئے بھی اپنے نشانات دکھاتا ہے جو اُن رسولوں پر ایمان لاتے ہیں۔“ ( تفسیر کبیر، تفسیر سورۃ الشعراء، جلدے صفحہ ۱۶۳،۱۶۲) ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا: ”ہم کسی سے لڑنے کی خواہش نہیں رکھتے اور نہ کبھی اس قسم کا خیال ہمارے دلوں میں آنا چاہیئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: لَا تَتَمَنوا لِقَاءَ الْعَدُو۔تم دشمن سے لڑائی کی خواہش ہی نہ کرو۔اپنے خیالات امن اور صلح والے رکھو کیونکہ جس شخص کے دل میں لڑائی کے خیالات موجزن ہوں گے وہ ذراسی بات سے بھی بہت جلد مشتعل ہو جائے گا اور جس شخص کے دل میں صلح و آشتی کے خیالات ہوں گے وہ جلدی مشتعل نہیں ہو گا۔یہ قدرت کا ایک قانون ہے کہ انسان اپنی حالت کو یک دم نہیں بدل سکتا۔فرض کرو کوئی شخص قہقہہ مار کر ہنس رہا ہو اور اُسے یہ خبر دی جائے کہ تمہارا بیٹا مر گیا ہے تو یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ اُسی وقت یک دم رونا شروع کر دے بلکہ اُس کی جنسی تھوڑی دیر میں رُکے گی پھر وہ کچھ دیر کے بعد افسردہ ہو گا اور پھر آنسو بہانا شروع کر دے گا۔اسی طرح جس شخص کے دل میں صلح و آشتی کے خیالات ہوں وہ یک دم مشتعل نہیں ہو سکتا۔جب ریل اپنا کانٹا بدلتی ہے تو وہ بھی آہستہ ہو جاتی ہے اور سست رفتار ہو کر اُس جگہ سے گزرتی ہے۔اگر وہ تیزی سے کانٹا بدلے تو اُس کے اُلٹ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فطرتِ انسانی کے لیے یہ قانون بنایا ہے کہ وہ اپنی حالت کو آہستہ آہستہ بدلتی ہے۔اگر فوراً حالت بدل جاتی تو ہسٹیریا یا جنون ہو جانے کا اندیشہ تھا۔پس جو دماغ پہلے سے لڑائی کے خیالات میں منہمک ہوتا ہے وہ فوراً مشتعل ہو جاتا ہے لیکن جس دماغ میں صلح اور امن کے خیالات ہوتے ہیں وہ کچھ دیر کے بعد مشتعل ہوتا ہے اور اتنی دیر میں مجرم کا جرم ثابت ہو جاتا ہے۔(خطبات محمود، خطبه جمعه فرموده ۲۳، مئی ۱۹۴۷، جلد ۲۸ صفحه ۱۹۱،۱۹۰)