صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 28 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 28

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۸ ۸۸- کتاب استتابة المرتدين۔۔۔کے مختلف کناروں پر حضرت علی، زبیر اور عبد اللہ بن مسعودؓ کو پہرہ کے لئے مقرر فرمایا۔اہل مدینہ مسجد میں اکھٹے ہونے لگے۔باغیوں کے وفد نے واپس جا کر اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ مدینہ میں موجود مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔اس پر باغیوں نے مدینہ کی اطراف پر حملہ کر دیا جس پر حضرت ابو بکر مسجد میں اکھٹے ہونے والے مسلمانوں کو لے کر دشمن کے مقابلہ کے لئے اونٹوں پر نکلے۔دشمن بھاگ نکلا مگر دوڑتے دوڑتے بھی اس نے مختلف ترکیبوں سے مسلمانوں کے اونٹوں کو بد کا دیا جس پر اونٹ واپس مدینہ کی طرف بے قابو ہو کر بھاگے ، مسلمانوں کا کوئی جانی نقصان نہ ہو انگر دشمن نے مسلمانوں کو کمزور سمجھا اور اپنے باقی باغی ساتھیوں کو پیغام بھیجا که مسلمان کمزور ہیں آؤ حملہ کریں۔اس پر ابو بکر مسلمانوں کو لے کر فجر ہوتے ہی دشمنوں کے سر پر پہنچ گئے اور ان سے جنگ کی۔سورج نکلنے سے قبل ہی دشمن پسپا ہو گیا۔واپس جا کر بنو ز بیان اور الا عبس قبائل نے اپنے علاقہ کے نہتے مسلمانوں کو قتل کرنا شروع کر دیا جس پر ابو بکر نے قسم کھائی کہ وہ ایک ایک مسلمان کا بدلہ لے کر رہیں گے۔“( تاریخ ابن خلدون از عبد الرحمن ابن خلدون۔۔۔دار ابن حزم، بیروت، الطبعة الاولی ۲۰۰۳م، جلد اول صفحه ۸۶۰، ۸۶۱) تاریخ طبری میں مذکورہ حالات کا خلاصہ یہ ہے: حضور کی بیماری کی خبر ہوتے ہی یہ اطلاع بھی پہنچی کہ مسیلمہ نے یمامہ پر اور اسود عنسی نے یمن پر قبضہ کر لیا ہے۔طلیحہ نے بھی جلد ہی نبوت کا دعویٰ کر کے بغاوت کا علم بلند کیا اور فوج لے کر سمیراء مقام پر مسلمانوں سے لڑائی کے لئے نکلا۔اس کے پیچھے بہت سے عوام ہو گئے اور اس کا معاملہ خطر ناک صورت اختیار کر گیا۔ادھر بنور بیعہ نے بھی بحرین کے علاقہ میں بغاوت اور ارتداد کا اعلان کیا اور کہا کہ ہم بادشاہت کو دوبارہ آل مندر میں واپس لائیں گے اور انہوں نے منذر بن نعمان بن منذر کو اپنا بادشاہ بنایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گورنرز کی طرف سے جلد ہی یہ رپورٹس آئیں کہ ہر علاقہ میں خاص و عام نے بغاوت کر دی ہے اور باغی مسلمانوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھارہے ہیں۔حضرت ابو بکڑ نے بھی باغیوں