صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 500
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۰۰ ۹۴ - كتاب التمني هَذِي قَالَ وَلَمْ يَكُنْ مَعَ أَحَدٍ مِنَّا جانور ہو۔ حضرت جابر کہتے تھے اور ہم میں سے کسی صد الله سل اور هَذي غَيْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کے ساتھ بھی قربانی کا جانور نہ تھا سوائے نبی صلی علیم اور وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ وَجَاءَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ طلحہ کے اور حضرت علی یمن سے آئے اور ان کے ساتھ بھی قربانی کا جانور تھا اور وہ کہنے لگے : میں نے مَعَهُ الْهَدْيُ فَقَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ اسی نیت سے لبیک کہا ہے جس نیت سے رسول اللہ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ من السلام نے لبیک کہا ہے۔ لوگ کہنے لگے: کیا ہم معنی فَقَالُوا أَنَنْطَلِقُ إِلَى مِنِّي وَذَكَرُ أَحَدِنَا اس حال میں جائیں گے کہ ہم جنابت سے فارغ يَقْطُرُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ ہوئے ہوں؟ رسول اللہ صلی الم نے فرمایا: اگر مجھے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ اپنے متعلق وہ بات پہلے معلوم ہوتی جو بعد میں معلوم أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ وَلَوْلَا ہوئی تو میں قربانی (کے جانور ) نہ لاتا اور اگر یہ بات أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لَحَلَلْتُ قَالَ وَلَقِيَهُ نہ ہوئی کہ میرے ساتھ قربانی کے جانور ہیں تو میں سُرَاقَةً وَهُوَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَقَالَ بھی احرام کھول دیتا۔ حضرت جابر کہتے تھے : اور سراقہ بن مالک ) آپ سے اس وقت ملے جب آپ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَنَا هَذِهِ خَاصَّةً؟ قَالَ لَا ريم جمرہ عقبہ پر پتھر پھینک رہے تھے ، انہوں نے پوچھا: بَلْ لِأَبَدٍ قَالَ وَكَانَتْ عَائِشَةُ قَدِمَتْ يارسول اللہ ! کیا یہ ہمارے لئے خاص کر ہے؟ آپ مَعَهُ مَكَّةَ وَهِيَ حَائِضٌ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ نے فرمایا: نہیں۔ یہ ہمیشہ کے لئے ہے۔ حضرت جابر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَنْسُكَ کہتے تھے : اور حضرت عائشہ مکہ میں ایسی حالت میں الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنَّهَا لَا تَطُوفُ پہنچیں کہ وہ حائضہ تھیں تو نبی صلی الیم نے اُن کو حکم دیا وَلَا تُصَلِّي حَتَّى تَطْهُرَ فَلَمَّا نَزَلُوا کہ وہ حج کے تمام فرائض ادا کریں مگر طواف نہ کریں الْبَطْحَاءَ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللهِ اور نہ نماز پڑھیں جب تک کہ پاک نہ ہوئیں۔ جب انہوں نے بطحاء میں پڑاؤ کیا تو حضرت عائشہ نے کہا: أَتَنْطَلِقُونَ بِحَجَّةٍ وَ عُمْرَةٍ وَأَنْطَلِقُ یا رسول اللہ ! کیا آپ لوگ حج اور عمرہ کر کے جائیں بِحَجَّةٍ؟ قَالَ ثُمَّ أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ اور میں صرف حج کر کے جاؤں؟ حضرت جابرؓ کہتے أَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقِ أَنْ يَنْطَلِقَ مَعَهَا تھے کہ پھر آپ نے عبد الرحمن بن ابی بکر صدیق کو إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرَتْ عُمْرَةً فِي ذِي حکم دیا کہ وہ حضرت عائشہ کے ساتھ تنعیم کو چلے جائیں