صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 501
صحيح البخاری جلد ۱۹ ۵۰۱ ۹۴ - كتاب التمني الْحَجَّةِ بَعْدَ أَيَّامِ الْحَقِّ۔تو حضرت عائشہ نے ذی الحجہ میں ہی حج کے دنوں کے بعد عمرہ کیا۔أطرافه ١٥٥٧، ۱٥٦٨ ، ۱۵۷۰، ۱۶۵۱، ۱۷۸۵، ٢٥٠٦، ٤٣٥٢، ٧٣٦٧۔تشریح: لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِى مَا اسْتَد برت: اگر مجھے اپنے متعلق پہلے سے وہ معلوم ہوتا جو مجھے بعد میں معلوم ہوا ہے تو میں قربانی کے جانور) نہ لاتا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ حجتہ الوداع کے موقع پر فرمائے۔اللہ تعالیٰ کا حکم ہے: وَلَا تَحْلِقُوا رُهُ وسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدِّى مَحِلَّهُ (البقرة: ١٩) جب تک قربانی اپنے مقام پر (نہ) پہنچ جائے اپنے سر نہ مونڈو۔حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی معنونہ روایت کتاب الجھ میں نسبتاً تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔اس میں ذکر ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی مئی الی یکم نے ان لوگوں کو چھوڑ کر جن کے ساتھ قربانی کے جانور تھے ، باقی اصحاب سے فرمایا: اپنے حج کو عمرہ کر دیں۔بیت اللہ کا طواف اور صفاو مروہ کے درمیان سعی کر کے اپنے بال کٹوالیں اور احرام کھول دیں۔پھر اسی طرح بغیر احرام ٹھہرے رہیں یہاں تک کہ آٹھ ذی الحجہ ہو جائے تو حج کا احرام باندھ لیں۔انہوں نے کہا: ہم نے حج کی نیت کی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں جو حکم دیا ہے اسے کرو۔اگر میں قربانی نہ لایا ہوتا تو میں بھی ویسا ہی کرتا جیسا میں نے تمہیں حکم دیا ہے لیکن اب جب تک قربانی اپنے ٹھکانے پر نہ پہنچ جائے، مجھ پر حلال نہیں ہو سکتا۔ان صحابہ نے (جن کے ساتھ قربانی نہیں تھی، عمرہ ادا کر کے) احرام کھول دیئے۔(بخاری، کتاب الحج، روایت نمبر ۱۵۶۸) اسلام سے قبل یہ دستور تھا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کو گناہ سمجھا جاتا تھا ( بخاری، کتاب الحج، روایت نمبر (۱۵۶۴) جس کے پیچھے یہ سوچ تھی کہ اگر لوگ حج کے ساتھ عمرہ بھی ادا کر لیں گے تو دوران سال لوگ عمرہ کرنے نہیں آئیں گے اور عملاً بیت اللہ ویران ہو جائے گا اور متوالیان بیت اللہ کی آمد پر بھی اس کا گہرا اثر ہو گا۔ماضی کے اس دستور کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اس موقع پر صرف حج کی نیت سے مدینہ سے روانہ ہوئے مگر دوران سفر جب آپ وادی عقیق پہنچے تو آپ نے فرمایا: أَتَانِي اللَّيْلَةَ آبِ مِنْ رَبِّي فَقَالَ صَلِّ فِي هَذَا الوَادِى المُبَارَكِ وَقُلْ محمد لا في حجة (بخاری، کتاب احج ، روایت نمبر ۱۵۳۴) آج رات میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور اُس نے کہا: اس مبارک وادی میں نماز پڑھو اور کہو کہ حج مع عمرہ کرو۔اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر جو لوگ اپنے ساتھ قربانی کے جانور لائے تھے انہیں حج کے موقع پر عمرہ کرنے کا کہا گیا مگر یہ کہ وہ قربانی ذبیح ہونے تک احرام نہیں کھولیں گے لیکن جو لوگ قربانی ساتھ نہیں لائے تھے انہیں یہ بتایا گیا کہ وہ حج کی نیت کے ساتھ عمرہ کی بھی نیت کر لیں اور عمرہ کرنے کے بعد احرام کھول دیں اور حج کے ایام میں حج کے لئے احرام باندھ لیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ قربانی کے جانور ساتھ لائے تھے اس لئے آپ اور وہ لوگ جو اپنے ساتھ قربانی کے جانور لائے تھے انہوں نے عمرہ کے بعد احرام نہ کھولا بلکہ مناسک حج مکمل کرنے کے بعد احرام کھولا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اعمال میں سہولت اور آسانی کی راہ اختیار فرمایا کرتے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا