صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 498 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 498

۴۹۸ ۹۴ - كتاب التمني صحیح البخاری جلد ۱۶ الخیر کا ایک معنی مال بھی ہے۔(اقرب الموارد - خیر) قرآن کریم میں بھی لفظ تحدید ان معنوں میں آیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِن تَرَكَ خَيْرًا (البقرۃ: ۱۸۱) یعنی اگر وہ (بطور ورش) کوئی مال چھوڑے۔معنونہ حدیث میں انفاق فی سبیل کی آرزو اور خواہش کا ذکر لفظ خیر کے انہی معانی کی طرف توجہ مبذول کروا رہا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لِكُلّ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلِيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ (البقرة:١٣٩) ہر ایک کے لئے ایک نصب العین ہے جس کی وہ پیروی کرتا ہے۔اس کے لئے وہ پابند ہو جاتا ہے، اس کے لئے وہ اپنے آپ کو وقف کر دیتا ہے، وہ قبلہ بن جاتا ہے جس کی طرف منہ پھیر لیتا ہے۔فَاسْتَبِقُوا الْخَيرات تمہارا نصب العین جن کی طرف تم نے اپنے چہرے پھیر نے ہیں، اپنی تو جہات کو مرکوز کرنا ہے وہ ہے ایک دوسرے سے نیکیوں میں آگے بڑھو۔پس اس جذبے کے ساتھ قرآن کریم نے ہمارا مقصد، ہمارا نصب العین ہی نیکیوں میں آگے بڑھنا قرار دے دیا ہے۔اگر ایک انسان اپنے بھائی سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے ہرگز ریا کاری نہیں کہا جاسکتا، اسے ہرگز معمولی بات سمجھ کر رہ نہیں کیا جاسکتا۔مگر اس اعلیٰ نیت کے باوجود اس سے بھی بلند تر نیتیں ہیں اور ان میں سے اول یہ ہے کہ اللہ کا تصور ذہن پر حاوی ہو۔اگر خدا کی محبت کی آمیزش شامل ہو جائے تو سب کچھ مل گیا پھر آگے بڑھنے کی توفیق بھی ملتی ہے اور غیر معمولی طور پر ملتی ہے اور اس نصب العین سے اس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے بلکہ اُس کو بڑھانے والی چیز ہے اور نیکیوں کو نور بنا دینے والا نسخہ یہی ہے کہ ہر نیکی کی نیت میں اللہ تعالیٰ کی محبت اثر انداز ہو یعنی نیکیاں دراصل اللہ کی محبت سے پھوٹیں وہ چیزیں جو نور سے پھوٹتی ہیں وہ نور ہی رہیں گی اور یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ کثیف ہو جائیں۔“ ( خطبات طاہر، خطبہ جمعہ فرموده ۲۷، دسمبر ۱۹۹۶ء، جلد ۵ صفحه ۹۹۴، ۹۹۵) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”مجرد سبقت کا جوش اپنے اندر بُرا نہیں ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے: فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرُتِ (البقرۃ:۱۴۹) یعنی خیر اور بھلائی کی ہر ایک قسم میں سبقت کرو اور زور مار کر سب سے آگے چلو۔سو جو شخص نیک وسائل سے خیر میں سبقت کرنا چاہتا ہے وہ درحقیقت حسد کے مفہوم کو پاک صورت میں اپنے اندر رکھتا ہے۔( مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحہ ۱۲۷)