صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 497
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۴۹۷ ۹۴ - كتاب التمني کا مشاہدہ کرتا ہو اور اُس کے تلخ قضاء و قدر سے شہد شیریں کی طرح لذت اُٹھاتا ہے اور اسی معنے کے رُو سے شہید کہلاتا ہے اور یہ مرتبہ کامل مومن کے لئے بطور نشان کے ہے۔“ ( تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۲۰، ۴۲۱) بَابِ : تَمَنِّي الْخَيْرِ نیک کام کی آرزو کرنا وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر احد میرے لئے سونا ہو جائے۔لَوْ كَانَ لِي أُحَدٌ ذَهَبًا۔۷۲۲۸: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ :۷۲۲۸ اسحاق بن نصر نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَّعْمَرٍ عَنْ عبد الرزاق نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے معمر سے، هَمَّامٍ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ معمر نے ہمام سے روایت کی۔انہوں نے حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ كَانَ ابوہریرہ سے سنا۔وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت عِنْدِي أُحُدٌ ذَهَبًا لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَّا يَأْتِيَ کرتے تھے۔آپ نے فرمایا: اگر میرے پاس اُحد عَلَيَّ ثَلَاثٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ لَيْسَ جتنا سونا ہو تو میں ضرور یہی پسند کروں کہ مجھ پر تین راتیں ایسی نہ آئیں کہ اس میں سے ایک اشرفی شَيْءٌ أَرْصُدُهُ فِي دَيْنِ عَلَيَّ أَجِدُ مَنْ بھی میرے پاس ہو۔میں اس شخص کو تلاش کروں يُقْبَلُهُ۔أطرافه: ٢٣٨٩، ٦٤٤٥- جو یہ اشرفی بھی لے لے ، قرض ادا کرنے کے لئے جو مجھ پر ہو کچھ میں رکھ چھوڑوں تو یہ ایسی بات نہیں۔ریح: ملى الخير : نیک کام کی آرزو کرنا۔امام راغب بیان کرتے ہیں کہ ہر وہ چیز جو سب کے نزدیک مرغوب و مطلوب ہو ”خیر “ کہلاتی ہے، جیسے عقل، عدل، فضل۔اس کا متضاد شر“ ہے۔۔۔خیر کی دو قسمیں ہیں۔(۱) خیر مطلق۔یعنی وہ چیز جو سراسر خیر ہو، جس میں شر کا کچھ بھی حصہ نہ پایا جائے، جیسے جنت۔(۲) خیر و شر سے مقید۔یعنی وہ چیز جو کسی ایک کے لیے تو خیر ہو جبکہ کسی دوسرے کے لیے وہی چیز نشر بن جائے، مثلاً مال و دولت۔(المفردات فی غریب القرآن، خير ) فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرُتِ (البقرة : ۱۴۹) کا الہی حکم ہمیں خیر میں آگے بڑھنے کی تمنا اور آرزو کی طرف راغب کرتا ہے۔