صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 496 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 496

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۹۶ ۹۴ - كتاب التمني دریا میں ڈوب گیا یا وباء میں مر گیا وغیرہ۔مگر میں کہتا ہوں کہ اسی پر اکتفاء کرنا اور اسی حد تک اس کو محدود رکھنا مومن کی شان سے بعید ہے۔شہید اصل میں وہ شخص ہو تا ہے جو خد اتعالیٰ سے استقامت اور سکینت کی قوت پاتا ہے اور کوئی زلزلہ اور حادثہ اس کو متغیر نہیں کر سکتا۔وہ مصیبتوں اور مشکلات میں سینہ سپر رہتا ہے یہاں تک کہ اگر محض خدا تعالیٰ کے لئے اس کو جان بھی دینی پڑے تو فوق العادت استقلال اُس کو ملتا ہے اور وہ بڑوں کسی قسم کا رنج یا حسرت محسوس کئے اپنا سر رکھ دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ بار بار مجھے زندگی ملے اور بار بار اس کو اللہ کی راہ میں دوں۔ایک ایسی لذت اور سرور اُس کی رُوح میں ہوتا ہے کہ ہر تلوار جو اس کے بدن پر پڑتی ہے اور ہر ضرب جو اُس کو پیس ڈالے، اُس کو پہنچتی ہے وہ اُس کو ایک نئی زندگی نئی مسرت اور تازگی عطا کرتی ہے۔یہ ہیں شہید کے معنی۔پھر یہ لفظ شہد سے بھی نکلا ہے۔عبادتِ شاقہ جو لوگ برداشت کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں ہر ایک تلخی اور کدورت کو جھیلتے ہیں اور جھیلنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، وہ شہد کی طرح ایک شیرینی اور حلاوت پاتے ہیں اور جیسے شہد فِيهِ شِفَاء لِلنَّاسِ (النحل:۷۰) کا مصداق ہے یہ لوگ بھی ایک تریاق ہوتے ہیں۔اُن کی صحبت میں آنے والے بہت سے امراض سے نجات پا جاتے ہیں۔اور پھر شہید اُس درجہ اور مقام کا نام بھی ہے جہاں انساں اپنے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کو دیکھتا ہے یا کم از کم خدا کو دیکھتا ہوا یقین کرتا ہے۔اس کا نام احسان بھی ہے۔“ نیز فرمایا: (ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۲۷۶) مرتبہ شہادت سے وہ مرتبہ مراد ہے جبکہ انسان اپنی قوتِ ایمان سے اس قدر اپنے خدا اور روز جزا پر یقین کر لیتا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ کو اپنی آنکھ سے دیکھنے لگتا ہے۔تب اس یقین کی برکت سے اعمال صالحہ کی مرارت اور تلخی دور ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کی ہر ایک قضاء و قدر باعث موافقت کے شہد کی طرح دل میں نازل ہوتی اور تمام صحن سینہ کو حلاوت سے بھر دیتی ہے اور ہر ایک ایلام انعام کے رنگ میں دکھائی دیتا ہے۔سو شہید اُس شخص کو کہا جاتا ہے جو قوت ایمانی کی وجہ سے خدا تعالیٰ