صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 495
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۹۵ ۹۴ - كتاب التمني جب عملی دنیا میں ڈھالا جاتا ہے تو اس قسم کے نظارے پیش آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے دفاع کے لئے اپنی کامیابی کے لئے جتنی صلاحیتیں بخشی ہیں وہ تمام کی تمام انتہائی جدوجہد اور کوشش کے ساتھ خدا کی راہ میں صرف کر دی جائیں اور اس راہ میں اگر موت آئے تو اسے اپنی خوش نصیبی سمجھیں۔ موت کی دعا کریں مگر ان معنوں میں نہیں کہ ہماری غفلت سے ہم پر موت آئے۔ جنگ اُحد میں یہ ایک عجیب واقعہ پیش آیا اور بار بار آیا کہ ایک صحابی جو بہت ہی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ غیر معمولی جنگی صلاحیتیں رکھتے تھے وہ بار بار دشمن کی صف پر حملہ کرتے تھے اور اتنی کامیابی کے ساتھ حملہ کرتے تھے اور دفاع کرتے تھے کہ نرغے میں آجانے کے باوجود جب صحابہ سمجھتے تھے اب یہ واپس نہیں آسکے گا تو پھر وہ صفیں چیرتا ہوا واپس آجاتا تھا اور واپس آکر آنحضرت صلی اللہ علم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اور کہتا تھا : یا رسول اللہ ! میرے لئے دعا کریں میں شہید ہو جاؤں ابھی تک شہید نہیں ہوا۔ پھر وہ پلٹ کر حملہ کرتا تھا اور پھر اسی طرح دشمن کی صفیں چیر تا چلا جاتا تھا اور نرغے میں بظاہر پھنسنے کے بعد پھر جیسے افق سے سورج نکلتا ہے کہتا تھا: اس طرح وہ نمودار ہوتا تھا۔ پھر حضور اکرم صلی الہ وسلم کی خد ما خدمت میں حاضر ہوتا تھا اور اتھا: یا رسول اللہ ! میں نے سب کچھ کر دیکھا۔ کچھ کر دیکھا ہے، خطر ناک سے خطر ناک جگہ پر بھی پہنچا ہوں مگر نہیں شہید ہو سکا۔ میرے لئے دعا کیجئے کہ میں شہید ہو جاؤں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ پھر جب وہ واپس آئے تو اتنی التجا تھی اُن کی اس درخواست میں، میں، اس تمنا کے اظہار میں تو اُس وقت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ وسلم نے دعا کی: اے خدا! اس کو شہید کر دے۔ کہتے ہیں کہ وہ سورج پھر جب بادلوں کے پیچھے گیا ہے تو واپس نہیں لوٹ کر دیکھا گیا۔ پھر وہ دوسرے روحانیت کے افق پر نمودار ہوا ہے ایک اور افق پر وہ اُبھرا ہے مگر نئی شان کے ساتھ اور نئی چمک کے ساتھ۔“ (خطبات طاہر، خطبه جمعه فرموده ۹ اگست ۱۹۸۵، جلد ۴ صفحه ۶۸۳، ۶۸۴) شہادت کے متعلق یہ امر سمجھنا بھی ضروری ہے کہ شہید کا رتبہ پانا صرف جان دینا ہی نہیں بلکہ ایمان کے اعلیٰ معیار کا حصول اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: حصول تعالی کی اقدس موعود علی الصلوة ” عام لوگوں نے شہید کے معنی صرف یہی سمجھ رکھے ہیں کہ جو شخص لڑائی میں ماراً گیا یا