صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 27
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۷ ۸۸- کتاب استتابة المرتدين۔۔۔نبوت کے خلاف فوج کشی نہیں کی جاتی تھی۔افسوس یہ بگڑے ہوئے علماء ظلم پر ظلم کرتے چلے جارہے ہیں۔ذرا بھی خدا کا خوف نہیں کھاتے کہ اسلام پر کیسے گندے حملے کر رہے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر بھی حملہ کرنے سے نہیں چوکتے۔لیکن اس وقت اسکا فریب نہ چلا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سارا قبیلہ اس کے دام میں آگیا۔اس نے نماز سے سجدہ موقوف کر دیا اس سے تکلیف ہوتی ہے زکوۃ بھی معاف کر دی۔اس لئے منکرین زکوۃ اس کے حلقہ بگوش ہو گئے۔طلیحہ نے ایک بہت بڑا لشکر مرتب کر کے مدینہ بھیجا (لشکر بھی بھیجا ہے جب تک لشکر نہیں بھیجا اس وقت تک حضرت ابو بکر کو خیال بھی نہیں آیا کہ جھوٹے نبی کی سزا یہ ہے کہ اس کے خلاف قتال کرو) حضرت صدیق لشکر کے مقابلہ کے لئے آئے۔حملہ آور بھاگ نکلے۔اسلامی دستور حیات از غلام احمد حریری، لاہور، محمود ریاض پرنٹرز، ناشر ضیاء الحق قریشی، ۱۹۸۶ء، صفحه ۳۳۵، ۳۳۶) <<۔تاریخ ابن خلدون میں مذکورہ حالات کا خلاصہ یوں ہے: قریش اور ثقیف قبیلہ کے علاوہ جملہ اہل عرب کے ارتداد کی خبریں مدینہ پہنچیں۔مسیلمہ کی بغاوت کا مسئلہ نازک صورتحال اختیار کر گیا۔اسی طرح طی اور اسد قبیلوں کے لوگ طلیحہ کے گرد جمع ہو گئے۔غطفان قبیلہ بھی مرتد ہو گیا۔ہوازن قبیلہ کے لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا۔یمن اور یمامہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ والیان اور عمال کو باغیوں نے نکال دیا۔حضرت ابو بکر نے (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ) سفراء اور خط و کتابت کے ذریعہ بات چیت کر کے ان باغیوں کو سمجھانے کی کوشش کی اور اُسامہ کی زیر نگرانی باہر گئے ہوئے لشکر کی واپسی کا انتظار کیا مگر باغیوں نے مدینہ پر حملہ کے لئے مدینہ کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔مدینہ کے قریب پہنچ کر الا برق اور ذی القصہ مقام پر پڑاؤ ڈالا اور حضرت ابو بکر کو پیغام بھیجا کہ ہمیں نماز بے شک پڑھوائیں مگر زکواۃ ادا کر نا معاف کر دیں مگر حضرت ابو بکر نے اس مطالبہ کو ماننے سے انکار فرما دیا اور آپ نے مدینہ