صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 494
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۴۹۴ ۹۴ - كتاب التمني أَحْيَا ثُمَّ أُقْتَل فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُهُنَّ زندہ کیا جاؤں اور مارا جاؤں۔(راوی نے کہا :) ثَلَاثًا أَشْهَدُ بِاللهِ۔میں اللہ کی قسم کھا کر شہادت دیتا ہوں کہ حضرت ابوہریر ڈان کلمات کو تین بار کہتے تھے۔أطرافه ،۳۶ ،۲۷۸۷ ،۲۷۹۷، ۲۹۷۲، ۳۱۲۳، ٧٢۲۶ ٧٤٥٧، ٧٤٦- ریح : مَا جَاءَ في المني: آرزو کرنے کے متعلق جو حدیثیں آتی ہیں۔امام بخاری نے شہادت کی آرزو کے ذکر سے اس کتاب کا آغاز کر کے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ جان انسان کی سب سے قیمتی متاع ہے ، اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کی تمنا اور آرزو کرتاہی دنیا کی سب تمناؤں اور آرزوؤں میں سے قابل ستائش و تحسین ہے۔سچی تمنا انسان کو اس راہ میں دلاور بنا دیتی ہے اور وہ اپنا تن من دھن قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے۔یہ تمنا جوں جوں پر وان چڑھتی ہے اس میں موجزن جذبہ جام عشق کو پینے کے لئے بے تاب ہوتا ہے اور بقول غالب اس کی یہ حالت ہوتی ہے: عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک حضرت خلیفہ المسیح الرابع فرماتے ہیں: ”جب صحابہ کو شہادت کی طرف بلایا جاتا تھا تو بڑے ذوق شوق کے ساتھ جاتے تھے لیکن کبھی یہ نہیں آپ نے دیکھا کہ کسی صحابی نے تلوار اُٹھانے میں دیر کر دی ہو اور دشمن کو موقع دیا ہو کہ پہلے وہ وار کر دے، کبھی آپ نے یہ نہیں سنا ہو گا کسی صحابی نے اپنی دفاعی شیلڈ اُٹھانے میں دیر کر دی ہو اور دشمن کو موقع دیا ہو کہ وہ اس پر کامیاب وار کر دے تاکہ وہ شہید ہو جائے۔ان کی زندگیوں میں عجیب تو ازن تھا۔شہادت کا شوق ایسا کہ دعائیں کرواتے تھے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ ہم سے کہ دعا کریں کہ ہم شہید ہو جائیں۔اور لڑتے اس شدت کے ساتھ تھے اور اپنا دفاع ایسی کامیابی کے ساتھ کرتے تھے کہ نہیں شہید ہو سکتے تھے۔یہ جو زندگی کی حیرت انگیز کیفیت ہے دنیا اس سے ناواقف ہے ، سوچ بھی نہیں سکتی۔یہ صرف اہل ایمان ہی کا صرف کرشمہ ہے مگر آنحضور صلی ) اور آپ کے غلاموں نے اس کو خوب کھول کر ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔یہ وہ بظاہر تضاد لیکن فی الحقیقت تضاد سے عاری چیز ہے۔خلوص اور تقویٰ اور سچائی کے ساتھ ہم جو ایمان رکھتے ہیں بالکل اسی ایمان کو