صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 491
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۹۱ ۹۳ - كتاب الأحكام خط لانے والے سے میں نے کہا آؤ اس کا جواب دوں۔میں اسے ساتھ لے کر چلا۔آگے ایک تنور جل رہا تھا میں نے خط اس میں پھینک کر کہا اپنے آقا سے جا کر کہہ دو کہ اس کے خط کا یہ جواب ہے۔یہ کہہ کر میں گھر آ گیا چونکہ کوئی بات تو کرتا نہیں تھا اس لئے میں اب گھر میں ہی رہنے لگا۔آخر ایک دن صبح کی نماز کا وقت تھا کہ میں نے سنا ایک شخص دُور پہاڑی سے آواز دے رہا ہے۔کعب بن مالک ! مبارک ہو خدا اور اس کے رسول نے تمہیں معاف کر دیا۔کعب بن مالک مالدار آدمی تھے اور جنگ سے بھی وہ اسی لئے رہ گئے تھے کہ انہوں نے سمجھا میرے پاس سواری ہے جب چلوں گا لشکر میں جا کر شامل ہو جاؤں گا مگر وہ اسی خیال میں رہ گئے۔انہوں نے کہا میں چونکہ مال و دولت کی وجہ سے جہاد سے محروم رہا ہوں اس لئے اپنی ساری جائداد خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتا ہوں اور ایسی وفاداری سے اس عہد کو نبھایا کہ جس شخص نے سب سے پہلے آپ کو مبارک باد دی اسے بھی اپنے ایک دوست سے قرض لے کر تحفہ دیا۔اپنے مال سے کچھ نہ دیا۔کیونکہ وہ ان کے نزدیک ان کا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہو چکا تھا تو مومن ابتلاء میں ترقی کرتا ہے لیکن منافق اور بھی گر جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ابتلاء آتے ہیں وہ اس لئے آتے ہیں کہ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ۔جب کافر پر عذاب بھیجنے سے بھی خدا تعالیٰ کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ اس کی طرف لوٹے تو مومن پر ابتلاء اسے اپنے سے دُور کرنے کے لئے کس طرح ہو سکتا ہے۔جو شخص دشمن کو بھی اس کے فائدہ کے لئے سزا دیتا ہے وہ دوست کو نقصان کے لئے کس طرح تکلیف دے سکتا ہے لیکن بعض نادان اپنے نفع و نقصان اور مفید و مصر میں امتیاز نہ کر سکنے کی وجہ سے سخت ٹھو کر کھا جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عذاب پہنچتا ہے اس کی غرض یہی ہوتی ہے کہ دلوں کو صاف کرے۔اگر انسان اس سے سبق حاصل کرے تو وہی اس کے لئے برکت کا موجب ہو جاتا ہے اور اگر دُور جا پڑے تو اللہ غنی ہے اسے کسی کی پرواہ نہیں۔اس لئے تم پر بھی جب کوئی مصیبت آئے تو اگر اپنے آپ کو منافق سمجھتے ہو جب بھی یہی خیال کرو کہ اس کی غرض لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ہے اور اگر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا دوست سمجھتے ہو تو یہ خیال کرو کہ جب کوئی ذلیل انسان بھی اپنے دوست کو نقصان نہیں پہنچاتا تو خدا تعالیٰ اپنے دوست کو کس طرح ضائع کر سکتا ہے پس یقین رکھو کہ وہ ابتلاء بھی تمہارے اعزاز کے لئے ہے تباہی کے لئے نہیں۔“ (خطبات محمود، خطبہ جمعہ فرموده ۷ مارچ ۱۹۳۰، جلد ۱۲ صفحه ۳۱۴ تا ۳۱۶)