صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 490 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 490

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۹۰ ۹۳ - كتاب الأحكام کچھ باز پرس کی جائے تو وہ کہتے ہیں کہ ہماری خدمات کا لحاظ نہیں رکھا گیا، ہماری قدر نہیں کی گئی۔یاد رکھنا چاہیے کہ انتظام الگ چیز ہے اور کام کرنا الگ چیز۔اور انتظام قائم رکھنے کے لئے جو غلطی کرتا ہے اُس سے پوچھا جاتا ہے خواہ وہ کوئی ہو۔“ (خطبات محمود، خطبہ جمعہ فرموده ۲۷ جولائی ۱۹۱۷، جلد پنجم صفحہ ۵۲۷) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مؤمن ابتلاء میں ثابت قدم رہتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ایک عبرت انگریز واقعہ ہے آپ جنگ تبوک کیلئے نکلے بعض لوگ پیچھے رہ گئے۔آپ ان پر ناراض ہوئے اور حکم دیا ان سے کوئی کلام نہ کرے اور کچھ دنوں کے بعد حکم دیا ان کی بیویاں بھی ان سے علیحدہ رہیں۔خیال کیا جا سکتا ہے کہ یہ کتنی بڑی سرزنش تھی۔ایک صحابی بیان کرتے ہیں: میں متواتر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوتا اور آکر السلام علیکم کہتا اور خیال کرتا آپ بولیں گے تو نہیں مگر شاید منہ میں جواب دیں اس لئے میں آپ کے ہونٹوں کی طرف دیکھتا لیکن جب کوئی حرکت نہ ہوتی تو اُٹھ کر چلا جاتا اور دوبارہ آکر السلام علیکم کہتا اور پھر ہونٹوں کی طرف دیکھتا جب ہونٹوں میں حرکت نہ نظر آتی تو پھر باہر چلا جاتا اور پھر آتا اسی طرح آتا جاتا رہتا۔ایک دفعہ میں اپنے بھائی کے ساتھ ہو لیا جس سے مجھے اتنی محبت تھی کہ ہمیشہ ہم اکٹھا کھانا کھاتے تھے اس سے میں باتیں کرتا گیا مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا۔میں نے تنگ آکر کہا کہ تو تو اچھی طرح جانتا ہے میں منافق نہیں ہوں محض غفلت کی وجہ سے پیچھے رہ گیا۔اس نے آسمان کی طرف سر اُٹھا کر کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے۔اس پر میں نے خیال کیا اس سے زیادہ اور کیا ہو گا کہ اتنا عزیز بھائی بھی میری طرف توجہ نہیں کرتا۔میں دل برداشتہ ہو کر بازار کی طرف چلا گیا راستے میں مجھے بعض لوگوں نے بتایا کہ ایک اجنبی تمہیں پوچھتا پھرتا ہے۔تھوڑی دیر بعد ایک شخص نے پوچھا کیا تم کعب بن مالک ہو ؟ وہ شخص غسان کے فرمانروا کا اینچی تھا جو سرحد پر سلطنت روما کے ماتحت ایک عیسائی ریاست تھی۔اس پرس نے مجھے ایک خط دیا جس میں لکھا تھا ہمیں معلوم ہے تم کتنے معزز آدمی ہو اور قوم میں تمہیں کس قدر رسوخ اور تصرف حاصل ہے مگر خبر ملی ہے کہ محمد نے تم سے ایسابُر اسلوک کیا ہے جو ذلیل لوگوں سے بھی نہیں کیا جاتا اس کا ہمیں بہت افسوس ہے اگر تم ہمارے پاس آجاؤ تو ہم تمہارا مناسب اعزاز کریں گے۔میں نے یہ خط پڑھ کر دل میں کہا یہ شیطان کا آخری حملہ ہے۔