صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 492
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۴۹۲ بسم الله الرحمن الرحيم - كتاب التمني آرزو کرنے کا بیان ۹۴ - كتاب التمني علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ القمی لفظ أُمنية سے ہے، یعنی تمنا اور آرزو کرنا۔یہ لفظ مستقبل کے ارادے سے تعلق رکھتا ہے۔اگر حسد سے مبرا ہوتے ہوئے خیر اور بھلائی کے بارے میں ہو تو پسندیدہ ہے لیکن اگر ایسا نہ ہو تو قابل مذمت ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ الفاظ تمیلی اور توچی میں یہ فرق ہے کہ ترچھی ایسی خواہش کو کہتے ہیں جس کا پورا ہونا ممکن ہو ، جبکہ عمانی کا لفظ اس کی نسبت عمومیت رکھتا ہے۔(یعنی ایسی خواہشات اور تمناؤں کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے جن کا پورا ہونا ممکن نہ ہو۔) امام راغب کے نزدیک جمعی میں ڈر یعنی محبت کا مفہوم بھی داخل ہے کیونکہ تمنا اسی چیز کی ہوتی ہے جس کی چاہت اور محبت ہو۔امام بخاری اس کتاب میں میں مرفوع احادیث لائے ہیں جن پر نو عناوین قائم کئے ہیں۔ان ابواب اور ان کے ذیل احادیث میں امام بخاری نے اچھی اور بُری ہر دو قسم کی تمناؤں کا ذکر کیا ہے اور کتاب کا آغاز اس تمنا اور خواہش سے کیا ہے جو ہر مؤمن کی ہونی چاہیئے یعنی شہادت۔شہادت انسان کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان، مال، عزت اور وقت سب کچھ قربان کرنے کا نام ہے اور چونکہ یہ سب خدا کی عطا ہے اس لئے اس کی یہ امانت اس کی راہ میں دینے کا موقع ملے تو اس سے بہتر کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: تو کچھ نہ لائے کچھ تیری عطا ہے اور بقول غالب ور (در ثمین) جان دی، دی ہوئی اُسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا قوم کی ترقی اور قومی انقلاب کے عظیم مقصد کے حصول کے لئے افراد کی قربانیاں دی جائیں تو یہ سودا نہ انفرادی طور پر گھاٹے کا ہے نہ اجتماعی طور پر کیونکہ اس شجرہ طیبہ کی آبیاری خوں سینچے بغیر نہیں ہوتی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ عشق و وفا کے کھیت کبھی خوں بیچے بغیر نہ پہنیں گے اس راہ میں جان کی کیا پر واجاتی ہے اگر تو جانے دو (کلام محمود)