صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 26 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 26

صحيح البخاری جلد ۱۹ ۲۶ ۸۸- کتاب استتابة المرتدين۔۔۔” جو جان بچاسکے بھاگ کر مدینہ میں پناہ گیر ہوئے۔باغیوں نے اسی پر اکتفانہ کیا، مرکز خلافت پر چڑھائی کی تیاریاں کرنے لگے۔ان دنوں اتفاق سے عمرو بن العاص بحرین سے واپس آئے۔انہوں نے دیکھا کہ یمن سے مدینہ تک مرتد افواج چھاؤنیاں ڈالے پڑی ہیں۔دشمن کی افواج عرب کی ریگ کی طرح بے شمار تھیں اور مقابلہ پر مدینے کے فقط مٹھی بھر بے سروسامان مسلمان تھے۔“ (شیخ محمد اقبال ایم اے، داستان اسلام حصہ دوم (خلافت راشدہ) ۱۹۷۰ء لاہور ، مطبوعہ پنجاب پر لیں، صفحہ ۲۳) ۲۔ایک اور مورخ لکھتا ہے: "آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ اٹھتے ہی عرب کے طول و عرض میں اللہ کے دین کے خلاف بغاوت کے نشان اُبھر نے لگے۔صرف مکہ ، مدینہ اور طائف کے باشندے ثابت قدم رہے۔بغاوت اور ارتداد کا یہ فتنہ جنگل کی آگ کی طرح پھیلا اور چند روز ہی میں عرب کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچ گیا۔مرتدوں اور باغیوں نے اسلامی عمال کو نکال دیا۔سچے مسلمانوں کو بیدردی سے قتل کرنا شروع کر دیا۔جو بچ سکے بھاگ کر مدینہ میں پناہ گزین ہوئے۔کچھ طالع آزماؤں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی کو دیکھ کر خانہ ساز نبوت کا ڈھونگ رچایا۔مختلف قبائل میں کئی جھوٹے نبی پیدا ہو گئے۔(جن میں ایک مشہور شخص طلیحہ بن خویلد تھا) اس کا اصلی نام طلحہ تھا مسلمان اسکو تحقیر اطلیحہ کہتے تھے۔یہ بنو اسد کے قبیلے سے تھا جو قریش کا دیرینہ حریف تھا۔طلیحہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں نبوت کا روپ دھار لیا تھا۔“ یہ فقرہ توجہ کے لائق ہے۔کہتے ہیں ! دیکھو جھوٹے نبیوں کے خلاف حضرت ابو بکر نے کیسی چڑھائی کی مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ دیکھو جھوٹے نبیوں کے خلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسی چڑھائی کی۔بعض اور نبوت کے دعویداروں کے علاوہ طلیحہ نے بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا کوئی حکم نہیں دیا اور کسی بھی دعویدار