صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 482 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 482

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۸۲ ۹۳ - كتاب الأحكام يَزَلْ بِهِ حَتَّى صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَبَايَعَهُ ابو بکر سے یہ کہتے سنا منبر پر چڑھیں اور وہ کہتے چلے گئے جب تک کہ آپ منبر پر نہیں چڑھے اور تمام لوگوں نے آپ سے بیعت کی۔النَّاسُ عَامَّةً۔طرفه : ٧٢٦٩- ۷۲۲۰: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ ۷۲۲۰: عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان اللهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ عَنْ أَبِيهِ کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ اپنے باپ سے، ان کے باپ نے محمد بن جبیر بن أَبِيهِ قَالَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ معلم سے، ابن جبیر نے اپنے باپ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ وسلم کے پاس آئی اور اس نے آپ سے کسی بات فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِنْ جِنْتُ وَلَمْ أَجِدْكَ کے متعلق گفتگو کی۔آپ نے اس سے فرمایا کہ آپ کے پاس پھر آئے۔وہ کہنے لگی : یا رسول اللہ ! كَأَنَّهَا تُرِيدُ الْمَوْتَ قَالَ إِنْ لَمْ بھلا بتا ئیں اگر میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں جیسے اس کی مراد موت سے تھی۔آپ نے فرمایا: اگر تم تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ۔أطرافه : ٣٦٥٩، ٧٣٦٠۔مجھے نہ پاؤ تو ابو بکر کے پاس آؤ۔۷۲۲۱: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۷۲۲۱ مدد نے ہم سے بیان کیا کہ بچی (قطان) يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سفیان ثوری) سے مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي روایت کی کہ قیس بن مسلم نے مجھے بتایا۔انہوں اللهُ عَنْهُ قَالَ لِوَفْدِ بُزَاحَةَ نے طارق بن شہاب سے، طارق نے حضرت ابوبکر بَكْرٍ رَضِيَ تَتْبَعُونَ أَذْنَابَ الْإِبِلِ حَتَّى يُرِيَ الله رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے بُزاخہ خَلِيفَةَ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے نمائندوں سے کہا: تم اونٹوں کی ڈموں کے پیچھے پیچھے رہو۔یہاں تک کہ اللہ اپنے نبی صلی الی یوم وَالْمُهَاجِرِينَ أَمْرًا يَعْذِرُونَكُمْ بِهِ۔کے خلیفہ اور مہاجرین کو کوئی ایسی بات دکھا دے جس کی وجہ سے وہ تمہیں معذور سمجھیں۔