صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 481
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۸۱ ۹۳ - كتاب الأحكام الله أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ معمر سے، معمر نے زہری سے روایت کی کہ مجھے عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ خُطْبَةَ عُمَرَ الآخِرَةَ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ حِينَ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَذَلِكَ الْغَدَ انہوں نے حضرت عمرؓ کا دوسر اخطبہ سناجب وہ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ منبر پر بیٹھے تھے اور یہ جس دن نبی صلی اللہ علیہ وَسَلَّمَ فَتَشَهَّدَ وَأَبُو بَكْرٍ صَامِت لَا وسلم کی وفات ہوئی اس سے دوسرے دن انہوں نے تشہد پڑھا اور حضرت ابو بکر خاموش رہے يَتَكَلَّمُ قَالَ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يُعِيشَ بولے نہیں۔حضرت عمرؓ نے کہا کہ میں اُمید کرتا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ رہیں حَتَّى يَدْبُرَنَا يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنْ يَكُونَ گے اور وہ ہمارے بعد جائیں گے۔اس سے ان آخِرَهُمْ فَإِنْ يَكُ مُحَمَّدٌ صَلَّى الله کی مراد یہ تھی کہ آپ سب سے آخر فوت ہوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى گے۔اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تو جَعَلَ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ نُورًا تَهْتَدُونَ الله تعالیٰ نے تمہارے درمیان ایک نور رکھا ہے بِهِ بِمَا هَدَى اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ جس کے ذریعہ سے تم راہ راست پر چلتے رہو گے۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ صَاحِبُ جس کے ذریعہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ راہنمائی کی اور حضرت ابو کیکر سول اللہ صلی اللہ ثَانِيَ اثْنَيْنِ فَإِنَّهُ أَوْلَى النَّاس عليه وسلم کے رفیق ثانی اثنین ہیں کیونکہ وہی مسلمانوں میں سے تمہارے معاملات کے بِأُمُورِكُمْ فَقُومُوا فَبَايِعُوهُ وَكَانَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ قَدْ بَايَعُوهُ قَبْلَ ذَلِكَ سر پرست ہونے کے زیادہ لائق ہیں۔اٹھو ان سے بیعت کرو اور انہی میں سے ایک گروہ اس قَدْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ وَكَانَتْ بَيْعَةُ سے پہلے بنو ساعدہ کے منڈوے میں آپ کی الْعَامَّةِ عَلَى الْمِنْبَرِ۔قَالَ الزُّهْرِيُّ عَنْ بیعت کر چکا تھا اور لوگوں کی عمومی بیعت منبر پر أَنَسِ بْن مَالِكِ سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ ہوئی۔زہری نے حضرت انس بن مالک سے نقل لِأَبِي بَكْرٍ يَوْمَئِذٍ اصْعَدِ الْمِنْبَرَ فَلَمْ کیا کہ میں نے اس دن حضرت عمرؓ کو حضرت فتح الباری مطبوعہ بولاق میں المُسلمین ہے (فتح الباری جزء۱۳ حاشیہ صفحہ ۲۵۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔