صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 483
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۸۳ ۹۳ - كتاب الأحكام باب ۷۲۲۲، ۷۲۲۳: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ۷۲۲۲-۷۲۲۳: محمد بن مثنی نے ہم سے بیان کیا بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کہ غندر نے ہمیں بتایا۔شعبہ نے ہم سے بیان عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ کیا۔شعبہ نے عبد الملک سے روایت کی کہ میں سَمُرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله نے حضرت جابر بن سمرہ سے سنا وہ کہتے تھے: میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَكُونُ اثْنَا عَشَرَ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بارہ امیر ہوں گے۔پھر آپ نے ایک بات فرمائی جو میں أَمِيرًا فَقَالَ كَلِمَةً لَمْ أَسْمَعْهَا فَقَالَ نے نہیں سنی تو میرے باپ نے کہا آپ نے أَبِي إِنَّهُ قَالَ كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ۔فرمایا: وہ سبھی قریش سے ہوں گے۔تشریح : الاستخلافى: خلیفہ مقرر کرنا۔حضرت خلیفہ المسیح الثاث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خلیفہ اللہ تعالیٰ ہی بناتا ہے اگر بندوں پر اس کو چھوڑا جاتا تو جو بھی بندوں کی نگاہ میں افضل ہوتا اسے ہی وہ اپنا خلیفہ بنا لیتے۔لیکن خلیفہ خود اللہ تعالٰی بناتا ہے اور اس کے انتخاب میں کوئی نقص نہیں۔وہ اپنے ایک کمزور بندے کو چنتا ہے جس کے متعلق دنیا بجھتی ہے کہ اسے کوئی علم حاصل نہیں، کوئی روحانیت، اور بزرگی اور طہارت اور تقویٰ حاصل نہیں۔اسے وہ بہت کمزور جانتے ہیں اور بہت حقیر سمجھتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اس کو چن کر اس پر اپنی عظمت اور جلال کا ایک جلوہ کرتا ہے اور جو کچھ وہ تھا اور جو کچھ اس کا تھا اس میں سے وہ کچھ بھی باقی نہیں رہنے دیتا اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے سامنے کلی طور پر فنا اور نیستی کا لبادہ وہ پہن لیتا ہے اور اس کا وجود دنیا سے غائب ہو جاتا ہے اور خدا کی قدرتوں میں وہ چھپ جاتا ہے تب اللہ تعالیٰ اسے اٹھا کر اپنی گود میں بٹھالیتا ہے اور جو اس کے مخالف ہوتے ہیں انہیں کہتا ہے کہ مجھ سے لڑو اگر تمہیں لڑنے کی تاب ہے، یہ بندہ بے شک نحیف، کم علم، کمزور، کم طاقت اور تمہاری نگاہ میں طہارت اور تقویٰ سے عاری ہے لیکن اب یہ میری پناہ میں آگیا ہے اب تمہیں بہر حال اس کے سامنے جھکنا پڑے گا۔ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اس لئے کہ خدا تعالیٰ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ انتخاب خلافت کے وقت اسی کی منشاء پوری ہوتی ہے اور بندوں کی عقلیں کوئی کام نہیں دیتیں۔“ خطبات ناصر ، خطبه جمعه فرموده ۲۵ نومبر ۱۹۶۶، جلد اول صفحه ۵۰۳)