صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 476
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۷۶ ۹۳ - كتاب الأحكام بِهَذِهِ الْآيَةِ لَا يُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا اس آیت کے مطابق یعنی اس شرط پر کہ وہ اللہ کا (الممتحنة: (١٣) قَالَتْ وَمَا مَسَّتْ يَدُ شریک کسی کو قرار نہیں دیں گی۔ زبانی بیعت لیا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ کرتے تھے۔ آپ بیان کرتی ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ کو کبھی نہیں چھوا سوائے اس عورت کے جس کے آپ امْرَأَةٍ إِلَّا امْرَأَةً يَمْلِكُهَا۔ مالک ہوتے تھے۔ أطرافه : ۲۷۱۳، ۲۷۳۳، ٤١۸۲، ٤٨٩١، ٥٢٨٨۔ ٧٢١٥: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ ۷۲۱۵ : ہم سے مسدد نے بیان کیا کہ عبدالوارث رم الْوَارِثِ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ایوب سے ، ایوب نے أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ بَايَعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى حفصہ سے، حفصہ نے حضرت ام عطیہ سے روایت اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ عَلَيْنَا لا کی آپ بیان کرتی ہیں: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم يُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا ( الممتحنة: ١٣) سے بیعت کی تو آپ نے ہمارے سامنے یہ آیت وَنَهَانَا عَنِ النِّيَاحَةِ فَقَبَضَتِ امْرَأَةٌ پڑھی یعنی اس شرط پر کہ وہ اللہ کا شریک کسی کو قرار نہیں دیں گی۔ اور ہمیں بین کرنے سے روکا۔ مِنَّا يَدَهَا فَقَالَتْ فُلَانَةُ أَسْعَدَتْنِي وَأَنَا (یہ سن کر) ہم میں سے ایک عورت نے اپنا ہاتھ أُرِيدُ أَنْ أَجْزِيَهَا فَلَمْ يَقُلْ شَیتا کھینچ کر سکیڑ لیا اور بولیں فلاں عورت نے میری فَذَهَبَتْ ثُمَّ رَجَعَتْ فَمَا وَفَتْ امْرَأَةٌ مدد کی تھی اور میں چاہتی ہوں کہ اس کا بدلہ ادا إِلَّا أُمُّ سُلَيْمٍ وَأَمُّ الْعَلَاءِ وَابْنَةُ أَبِي کروں۔ آپ نے کچھ نہیں فرمایا۔ وہ گئی اور پھر سَبْرَةَ امْرَأَةً مُعَادٍ أَوِ ابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ لوٹ آئی کیسی عورت نے بھی وفانہ کی مگر ام سلیم وَامْرَأَةُ مُعَادٍ۔ أطرافه : ١٣٠٦، ٤٨٩٢- اور ام علاء اور ابو بسرہ کی بیٹی نے جو معاذ کی بیوی تھیں۔ یا کہا: ابو سبرہ کی بیٹی اور معاذ کی بیوی نے۔ تشريح : بَيْعَةُ النِّسَاءِ : اء : عورتوں سے بیعت لینا۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ ا میں فرماتا ہے کہ اِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَتُ يُبَايِعْنَكَ - الممتحنه: ۱۳) جب مؤمن عورتیں تیرے پاس تجھ سے بیعت