صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 477 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 477

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۹۳ - كتاب الأحكام کرنے آئیں۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ امام وقت کی بیعت کرنا عورتوں کے لئے بھی ضروری ہے۔مگر عورتوں کی بیعت مردوں کی طرح نہیں ہوتی۔امام وقت عورتوں کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت نہیں لیتے بلکہ زبانی اقرار کی صورت میں وہ امام کے پیچھے بیعت کے الفاظ کو دوہراتی ہیں۔بعض شارحین کے نزدیک اگر امام وقت کسی محرم کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھیں اور باقی عورتیں اس پر اپنا ہاتھ رکھیں تو یوں اس جسمانی تعلق سے اُن روحانی لہروں کو جذب کرنے کا طریق اختیار کیا جا سکتا ہے جیسا کہ مردوں کی بیعت میں ہوتا ہے۔وگرنہ عورتوں کی بیعت زبانی ہی ہو گی اور کسی نامحرم کا ہاتھ چھونا منع ہے۔جن باتوں پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت عورتوں سے بیعت لی وہ آج بھی عورتوں کے لئے اتنی ہی اہم ہیں۔مثلاً شرک سے اجتناب، جزع فزع اور نوحہ و بین وغیرہ سے روکنا اسی زمرے میں آتا ہے۔اسلام نے آنکھ کے آنسو اور دل کے غم کو منع نہیں کیا۔مگر سینہ کوبی کرنا، جاہلیت کے بین کرنا اور نوحہ خوانی کرنا منع ہے۔اور تربیت کا یہ پہلو آج بھی بشدت محسوس ہوتا ہے۔آج جماعت احمدیہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے خلافت احمدیہ کے زیر سایہ ان بد رسوم کے خلاف جہاد کا علم اٹھائے ہوئے ہے۔جیسا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے فرمایا تھا: ”ہمارے معاشرے میں خاص طور پر اور دنیا کے مسلمانوں میں عام طور پر بیسیوں، سینکڑوں شاید ہزاروں بد رسمیں داخل ہو چکی ہیں۔احمدی گھرانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ وو تمام بد رسوم کو جڑ سے اکھیڑ کے اپنے گھروں سے باہر پھینک دیں۔“ مزید فرمایا: خطبات ناصر ، خطبہ جمعہ فرموده ۲۳ جون ۱۹۶۷، جلد اول صفحہ ۷۵۸) ہر گھرانے کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں ہر گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر اور ہر گھرانہ کو مخاطب کر کے بدر سوم کے خلاف جہاد کا اعلان کرتا ہوں اور جو احمدی گھرانہ بھی آج کے بعد ان چیزوں سے پر ہیز نہیں کرے گا اور ہماری اصلاحی کوشش کے باوجود اصلاح کی طرف متوجہ نہیں ہو گا وہ یہ یاد رکھے کہ خدا اور اس کے رسول اور اس کی جماعت کو اس کی کچھ پرواہ نہیں ہے۔وہ اس طرح جماعت سے نکال کے باہر پھینک دیا جائے گا جس طرح دودھ سے لکھی۔۔۔پس آج میں اس مختصر سے خطبہ میں ہر احمدی کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق اور جماعت احمدیہ میں اس پاکیزگی کو قائم کرنے کے لیے جس پاکیزگی کے قیام کیلئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا کی طرف مبعوث ہوئے تھے ہر بدعت اور بد رسم کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا ہے اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ آپ سب میرے ساتھ اس جہاد میں شریک ہوں گے۔“ (خطبات ناصر ، خطبہ جمعہ فرموده ۲۳ جون ۱۹۶۷، جلد اول، صفحه ۷۶۳،۷۶۲)