صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 25
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۵ ۸۸ کتاب استتابة المرتدين۔۔۔ ابو بکر صدیق نے کبھی کسی کو محض ارتداد کے جرم میں قتل کرایا ہو یا کبھی کسی کو اس کے مسلمان کہلانے کے باوجود، کلمہ پڑھنے کے باوجود، مسلمانوں کے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے باوجود، زکوٰۃ کا قائل ہونے کے باوجود اور زکوۃ ادا کرنے کے باوجود مرتد قرار دے کر قتل کرایا ہو بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ آپ نے مرتدین میں سے صرف ان لوگوں کے خلاف لڑائی کی جنہوں نے ارتداد کے ساتھ ساتھ اسلامی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور آپ کے گورنروں اور عمال کو ان کے علاقوں سے مار بھگا دیا اور مسلمانوں کو شدید تکالیف پہنچائیں اور انہیں بری طرح قتل کیا تھا۔ آپ نے ان بد بختوں کے خلاف اس لئے جنگ کی کہ ان ظالموں نے ہی جنگ اور ظلم کی ابتداء کی تھی اور بے گناہ مسلمانوں کو تہہ تیغ کر نا شروع کر دیا تھا۔ چنانچہ کتب سیرت و تاریخ اس فتنه ارتداد اور بغاوت کی تفاصیل یوں بیان کرتی ہیں: ا۔ بغاوت اور ارتداد کا یہ فتنہ آگ کی طرح پھیلا اور چند روز میں عربستان کے اس سرے سے اس سرے تک دوڑ گیا۔ مرتدوں اور باغیوں نے اسلامی عمال کو نکال دیا۔ اپنے ہاں کے صادق الایمان مسلمانوں کو دردناک ایذائیں دیں اور بے رحمی سے قتل کیا۔ “ شیخ محمد اقبال ایم اے، داستان اسلام حصہ دوم، خلافت راشده، ۱۹۷۰ء، مطبوعه پنجاب پریس، صفحہ ۳۳) یہ واقعہ نہیں ہو رہا تھا کہ حضرت ابو بکر صدیق نے ارتداد کی خبر سن کر ان کو قتل کرنے کا حکم دیدیا بلکہ وہ ظالم بد بخت مسلمانوں کو ارتداد کے جرم میں قتل کر رہے تھے کہ تم ہماری ملت سے پھر کر اسلام قبول کر چکے ہو، واپس لوٹ آؤ ورنہ ہم تمہیں قتل کر دیں گے اور طرح طرح کی اذیتیں دے کر ارتداد کی سزا وہ دے رہے تھے اس سزا سے ، اس ظلم سے روکنے کے لئے حضرت ابو بکر صدیق نے فوج کشی فرمائی اور مسلمہ اسلامی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کے جرم میں ان کے خلاف لشکر کشی کی۔“ مصنف کہتے ہیں: