صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 474
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۳ - كتاب الأحكام ہے۔مغر تو اس کے اندر ہے۔اکثر قانون قدرت یہی ہے کہ ایک چھلکا ہوتا ہے اور مغز اس کے اندر ہوتا ہے۔چھلکا کوئی کام کی چیز نہیں ہے۔مغز ہی لیا جاتا ہے۔بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں مغز رہتا ہی نہیں اور مرغی کے ہوائی انڈوں کی طرح جن میں نہ زردی ہوتی ہے نہ سفیدی، جو کسی کام نہیں آسکتے اور رڈی کی طرح پھینک دیئے جاتے ہیں۔۔۔اسی طرح پر وہ انسان جو بیعت اور ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اگر ان دونوں باتوں کا مغز اپنے اندر نہیں رکھتا تو اُسے ڈرنا چاہئے کہ ایک وقت آتا ہے کہ اس ہوائی انڈے کی طرح ذراسی چوٹ سے چکنا چور ہو کر پھینک دیا جائے گا۔اسی طرح جو بیعت اور ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اُس کو ٹٹولنا چاہئے کہ کیا میں چھلکا ہی ہوں یا مغز؟ جب تک مغز پیدا نہ ہو ایمان، محبت، اطاعت، بیعت، اعتقاد، مریدی اور اسلام کا مدعی سچامدعی نہیں ہے“۔(ملفوظات جلد اول صفحہ ۴۱۶) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یہ یاد رکھو کہ بیعت کے بعد تبدیلی کرنی ضروری ہوتی ہے۔اگر بیعت کے بعد اپنی حالت میں تبدیلی نہ کی جاوے تو پھر یہ استخفاف ہے۔بیعت بازیچۂ اطفال نہیں ہے۔در حقیقت وہی بیعت کرتا ہے جس کی پہلی زندگی پر موت وارد ہو جاتی ہے اور ایک نئی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ہر ایک امر میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے“۔(ملفوظات جلد دوم صفحہ ۲۵۷) بَاب ٤٩ : بَيْعَةُ النِّسَاءِ عورتوں سے بیعت لینا رَوَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ حضرت ابن عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو روایت کیا۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔:۷۲۱۳: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۷۲۱۳: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِي ح۔وَقَالَ اللَّيْثُ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی۔حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ نیز لیث نے کہا: یونس نے مجھ سے بیان کیا۔اُنہوں أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ أَنَّهُ نے ابن شہاب سے روایت کی کہ ابوادر میں سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ يَقُولُ قَالَ خولانی نے مجھے خبر دی کہ انہوں نے حضرت