صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 473
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۳ يوم ۹۳ - كتاب الأحكام مَاءٍ بِالطَّرِيقِ يَّمْنَعُ مِنْهُ ابْنَ السَّبِيلِ ایک وہ شخص جس کے پاس راستے میں بچا ہوا پانی وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَاهُ ہو مسافر کو اس سے محروم رکھے اور ایک وہ شخص إِنْ أَعْطَاهُ مَا يُرِيدُ وَفَّى لَهُ وَإِلَّا لَمْ جو امام سے بیعت کرے محض دنیا ہی کی خاطر اُس سے بیعت کر رہا ہو اگر وہ اس کو دے جو چاہتا ہے يَفِ لَهُ وَرَجُلٌ بَايَعَ - رَجُلًا بِسِلْعَةٍ تو اس سے وفا کرے اور اگر نہ دے تو اس سے وفا بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ بِاللهِ لَقَدْ أُعْطَى نہ کرے اور ایک وہ شخص جو عصر کے بعد کسی آدمی بِهَا كَذَا وَكَذَا فَصَدَّقَهُ فَأَخَذَهَا وَلَمْ کو کوئی سامان بیچ رہا ہو اور اللہ کی قسمیں کھائے کہ مجھے تو اس کا اتنا اتنا دیا گیا تھا تو وہ اس کو سچا سمجھ کر يُعْطَ بِهَا۔أطرافه : ٢٣٥٨، ٢٣٦٩، ٢٦٧٢، ٧٤٤٦۔اس سامان کو لے لے حالانکہ اسے اس کا اتنا نہیں دیا گیا تھا۔رح : مَن بَايَعَ رَجُلًا لَّا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِلدُّنیا : جو کسی شخص سے بیعت کرنے محض دنیاہی کی خاطر اس سے بیعت کر رہا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” بیعت رسمی فائدہ نہیں دیتی۔ایسی بیعت سے حصہ دار ہونا مشکل ہوتا ہے۔اسی وقت حصہ دار ہو گا جب اپنے وجود کو ترک کر کے بالکل محبت اور اخلاص کے ساتھ اس کے ساتھ ہو جاوے۔منافق آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ سچا تعلق نہ ہونے کی وجہ سے آخر بے ایمان رہے۔ان کو سچی محبت اور اخلاص پیدا نہ ہوا، اس لیے ظاہری لا إلهَ إِلَّا اللهُ ان کے کام نہ آیا۔تو ان تعلقات کو بڑھانا بڑا ضروری امر ہے۔اگر ان تعلقات کو وہ (طالب ) نہیں بڑھاتا اور کوشش نہیں کرتا، تو اس کا شکوہ اور افسوس بے فائدہ ہے۔محبت و اخلاص کا تعلق بڑھانا چاہیے۔جہاں تک ممکن ہو اس انسان (مرشد ) کے ہمرنگ ہو طریقوں میں اور اعتقاد میں نفس لمبی عمر کے وعدے دیتا ہے۔یہ دھو کہ ہے۔عمر کا اعتبار نہیں ہے۔جلدی راستبازی اور عبادت کی طرف جھکنا چاہیے۔اور صبح سے لے کر شام تک حساب کرنا چاہیے۔“ پھر آپ فرماتے ہیں: " ( ملفوظات جلد اول صفحه ۴،۳ یہ مت خیال کرو کہ صرف بیعت کر لینے سے ہی خدا راضی ہو جاتا ہے۔یہ تو صرف پوست فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں اس جگہ بیتابع ہے (فتح الباری جز ۱۳ حاشیہ صفحہ ۲۴۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔