صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 472
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۳ - كتاب الأحكام عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ فَأَصَابَ علیہ وسلم سے اسلام پر قائم رہنے کی بیعت کی۔پھر الْأَعْرَابِيَّ وَعْكَ بِالْمَدِينَةِ فَأَتَى اس بدوی کو مدینہ میں ہی بخار آنے لگا۔تو وہ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ بدوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ اُس نے کہا: یا رسول اللہ ! میری بیعت فسخ کریں۔أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا۔پھر وہ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ أَقِلْنِي آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میری بیعت فسخ کر دیں۔آپ نے نہ مانا۔پھر وہ آپ کے پاس آیا بَيْعَتِي فَأَبَى ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ اور کہنے لگا: میری بیعت فسخ کر دیں۔تب بھی آپ نے نہ مانا۔اس پر وہ بدوی نکل کر چل دیا۔رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ تو بھٹی إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَتَهَا کی طرح ہے جو اپنی میل کو باہر پھینک دیتا ہے وَتَنْصَعُ طِيبَهَا۔أطرافه : ۱۸۸۳، ۷۲۰۹، ۷۲۱۶، ۷۳۲۲- اور اس کی صاف چیز خالص ہو جاتی ہے۔بَاب ٤٨ : مَنْ بَايَعَ رَجُلًا لَّا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِلدُّنْيَا جو کسی شخص سے بیعت کرے محض دنیا ہی کی خاطر اس سے بیعت کر رہا ہو ۷۲۱۲: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ أَبِي ۷۲۱۲: عبد ان نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے حَمْزَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ ابوحمزہ سے، ابوحمزہ نے اعمش سے، اعمش نے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ الوصالح سے، ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی۔اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ لَا وسلم نے فرمایا: تین شخص ہیں اللہ قیامت کے دن يُكَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ اُن سے بات نہیں کرے گا اور نہ انہیں پا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ صاف کرے گا اور اُن کو دردناک سزا ہوگی۔بعض نسخوں میں اس جگہ الفاظ ”وَيَنْصَعُ طِيبُهَا “ ہیں۔( الجامع الصحيح للبخاری مطبوعه دار طوق النجاة، عن النسخة اليونيلية، جزء ۹ صفحه ۱۷۹)