صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 468 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 468

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۶۸ ۹۳ - كتاب الأحكام فَبَايَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَبَايَعَهُ النَّاسُ یہ کہہ کر حضرت عبد الرحمن نے ان سے بیعت کی الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ وَأُمَرَاءُ الْأَجْنَادِ اور دوسرے لوگوں مہاجرین اور انصار اور سر داران وَالْمُسْلِمُونَ۔أطرافه : ١٣٩٢ ٣٠٥٢ ٣١٦٢، ٣٧٠٠، ٤٨٨٨۔لشکر اور تمام مسلمانوں نے ان سے بیعت کی۔تشریح : كَيْفَ يُبَايِعُ الإِمَامُ النَّاسَ : امام لوگوں سے کس طرح بیعت لے۔حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: اطاعت کے معیار حاصل کرو۔اطاعت یہ نہیں کہ خلیفہ وقت کے یا نظام جماعت کے فیصلے جو اپنی مرضی کے ہوئے دلی خوشی سے قبول کرلئے اور جو اپنی مرضی کے نہ ہوئے اُس میں کئی قسم کی تاویلیں پیش کرنی شروع کر دیں، اُس میں اعتراض کرنے شروع کر دیئے۔فرمایا کہ یہ بیعت کا دعویٰ اگر ہے تو پھر اطاعت بھی کامل ہونی چاہئے۔پس یہ بیعت کا دعویٰ، اعتقاد کا دعویٰ، مریدی کا دعویٰ اور اس حقیقی اسلام پر عمل کرنے کا دعویٰ یا مسلمان ہونے کا دعویٰ تبھی حقیقی دعوی ہے جب یہ اعلان ہو کہ آج بیعت کرنے کے بعد میرا کچھ نہیں رہا بلکہ سب کچھ خدا تعالیٰ کا ہے اور اُس کے دین کے لئے ہے۔اور یہی بیعت کا مقصد ہے کہ اپنے آپ کو بیچ دینا۔“ (خطبات مسرور، خطبه جمعه بیان فرموده ۱۱/ اکتوبر ۲۰۱۳، جلد ۱۱ صفحه ۵۵۵) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: بیعت میں جاننا چاہیے کہ کیا فائدہ ہے اور کیوں اس کی ضرورت ہے ؟ جب تک کسی شے کا فائدہ اور قیمت معلوم نہ ہو ، تو اس کی قدر آنکھوں کے اندر نہیں سماتی۔جیسے گھر میں انسان کے کئی قسم کا مال و اسباب ہوتا ہے۔مثلا روپیہ پیسہ، کوڑی، لکڑی وغیرہ۔تو جس قسم کی جو شے ہے ، اسی درجہ کی اس کی حفاظت کی جاوے گی۔ایک کوڑی کی حفاظت کے لیے وہ سامان نہ کرے گا جو پیسہ اور روپیہ کے لیے اسے کرنا پڑے گا اور لکڑی وغیرہ کو تو یو نہی ایک کونہ میں ڈال دے گا۔علی ہذالقیاس جس کے تلف ہونے سے اس کا زیادہ نقصان ہے، اس کی زیادہ حفاظت کرے گا۔اسی طرح بیعت میں عظیم الشان بات تو بہ ہے۔جس کے معنی رجوع کے ہیں۔توبہ اس حالت کا نام ہے کہ انسان اپنے معاصی سے جن سے اس کے تعلقات بڑھے ہوئے ہیں اور اس نے اپنا وطن انہیں مقرر کر لیا ہوا ہے گویا کہ گناہ میں اس نے بودوباش مقرر کرلی ہوئی ہے اس وطن کو چھوڑنا۔اور رجوع کے معنے پاکیزگی کو اختیار کرنا۔“ (ملفوظات، جلد اول صفحه (۲)