صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 467
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۶۷ ۹۳ - كتاب الأحكام اللَّيْلُ ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ مِنْ عِنْدِهِ وَهُوَ کیا۔ پھر اس کے بعد مجھے بلایا اور کہا کہ علی کو عَلَى طَمَعِ وَقَدْ كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ میرے پاس بلا لاؤ اور میں ان کو بلا لایا۔ حضرت يَخْشَى مِنْ عَلِيّ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ ادْعُ عبد الرحمن اتنی دیر تک ان سے در پر وہ باتیں کرتے رہے کہ آدھی رات ہو گئی۔ اس کے بعد لِي عُثْمَانَ فَدَعَوْتُهُ فَنَاجَاهُ حَتَّى حضرت علی ان کے پاس سے اُٹھ کر چلے گئے اور فَرَّقَ بَيْنَهُمَا الْمُؤَذِّنُ بِالصُّبْحِ فَلَمَّا وہ امید رکھتے تھے اور حضرت عبد الرحمن حضرت صَلَّى لِلنَّاسِ الصُّبْحَ وَاجْتَمَعَ أُولَئِكَ على سے کچھ ڈرتے بھی تھے۔ پھر انہوں نے کہا: الرَّهْطُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَأَرْسَلَ إِلَى مَنْ حضرت عثمان کو میرے پاس بلا لاؤ اور میں ان کو كَانَ حَاضِرًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ بلا لایا اور وہ اُن سے در پردہ باتیں کرتے رہے۔ وَالْأَنْصَارِ وَأَرْسَلَ إِلَى أُمَرَاءِ الْأَجْنَادِ حتی کہ مؤذن نے صبح کی اذان دے کر انہیں وَكَانُوا وَافَوْا تِلْكَ الْحَجَّةَ مَعَ عُمَرَ ایک دوسرے سے الگ کیا۔ جب وہ لوگوں کو صبح فَلَمَّا اجْتَمَعُوا تَشَهَّدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ کی نماز پڑھا چکے اور یہ گروہ منبر کے پاس جمع ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ يَا عَلِيُّ إِنِّي قَد ہو گیا تو حضرت عبد الرحمن نے جو مہاجرین اور انصار موجود تھے ان کو بلا بھیجا نیر سرداران لشکر کو نَظَرْتُ فِي أَمْرِ النَّاسِ فَلَمْ أَرَهُمْ بھی بلوایا جو اتفاق سے اس حج میں آگئے تھے اور يَعْدِلُونَ بِعُثْمَانَ فَلَا تَجْعَلَنَّ عَلَى حضرت عمرؓ کے ساتھ انہوں نے حج کیا تھا۔ جب نَفْسِكَ سَبِيلًا فَقَالَ أُبَايِعُكَ عَلَى سب اکٹھے ہو گئے تو حضرت عبد الرحمن نے تشہد سُنَّةِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ وَالْخَلِيفَتَيْنِ پڑھا پھر کہا۔ اما بعد ۔ اے علی میں نے لوگوں کے مِنْ بَعْدِهِ۔ معاملہ میں خوب غور کیا ہے اور میں اُنہیں نہیں دیکھتا کہ وہ حضرت عثمان کے برابر کسی کو سمجھتے ہوں اس لئے اب آپ اپنے متعلق ( ملامت کی) کوئی راہ نہ نکالیں۔ پھر حضرت عثمان نے کہا: میں آپ سے اللہ کی شریعت اور اس کے رسول اور آپ کے بعد دونوں خلیفوں کی سنت کے مطابق بیعت کرتا ہوں۔