صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 466 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 466

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۶۶ ۹۳ - كتاب الأحكام عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ سے مالک نے زہری سے روایت کی کہ حمید بن الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ عبد الرحمن نے انہیں بتایا کہ حضرت مسور بن مخرمہ مَحْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ الرَّهْطَ الَّذِينَ نے ہمیں خبر دی کہ وہ لوگ جن کو حضرت عمرؓ وَلَّاهُمْ عُمَرُ اجْتَمَعُوا فَتَشَاوَرُوا فَقَالَ نے خلافت کے لئے نامزد کیا تھا اکٹھے ہوئے اور لَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لَسْتُ بِالَّذِي آپس میں مشورہ کرنے لگے۔حضرت عبد الرحمن نے ان سے کہا: میں ایسا نہیں جو تمہارے مقابلہ أُنَافِسُكُمْ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ وَلَكِنَّكُمْ میں اس امر کی خواہش کروں لیکن اگر تم چاہو تو إِنْ شِنْتُمُ اخْتَرْتُ لَكُمْ مِنْكُمْ فَجَعَلُوا میں تمہارے لئے تم میں سے کسی کا انتخاب کروں۔ذَلِكَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَلَمَّا وَلَّوْا چنانچہ انہوں نے اس فیصلہ کو حضرت عبد الرحمن عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَمْرَهُمْ فَمَالَ النَّاسُ کے حوالہ کیا۔جب اُنہوں نے اپنا معاملہ حضرت عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَتَّى مَا أَرَى عبد الرحمن کے سپر د کر دیا تو لوگ حضرت عبد الرحمن أَحَدًا مِنَ النَّاسِ يَتْبَعُ أُولَئِكَ الرَّهْطُ کی طرف مائل ہو گئے۔یہاں تک کہ میں ایک وَلَا يَطَأُ عَقِبَهُ وَمَالَ النَّاسُ عَلَى عَبْدِ آدمی کو بھی نہ دیکھتا تھا جو ان آدمیوں کے ساتھ الرَّحْمَنِ يُشَاوِرُونَهُ تِلْكَ اللَّيَالِي حَتَّى جاتا اور نہ کوئی اُن کے پیچھے جاتا تھا اور لوگ حضرت إِذَا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَصْبَحْنَا مِنْهَا عبد الرحمن پر جھک پڑے۔ان سے راتوں کو مشورے کرنے لگے۔جب وہ رات ہوئی کہ جس فَبَايَعْنَا عُثْمَانَ قَالَ الْمِسْوَرُ طَرَقَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بَعْدَ هَجْعِ مِنَ اللَّيْلِ کی صبح کو اٹھ کر ہم نے حضرت عثمان سے بیعت فَضَرَبَ الْبَابَ حَتَّى اسْتَيْقَظْتُ ย کی۔حضرت مسور نے کہا کہ حضرت عبد الرحمن کچھ رات گزرنے کے بعد میرے پاس اچانک فَقَالَ أَرَاكَ نَائِمًا فَوَاللَّهِ مَا اكْتَحَلْتُ آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا جس سے میں جاگ پڑا۔هَذِهِ الثَّلَاثَ بِكَثِيرِ نَوْمِ انْطَلِقُ فَادْعُ کہنے لگے : میں سمجھتا ہوں کہ تم سوئے ہوئے ہو۔الزُّبَيْرَ وَسَعْدًا فَدَعَوْتُهُمَا لَهُ اللہ کی قسم ! میں تو یہ تین راتیں کچھ زیادہ نہ سو فَشَاوَرَهُمَا ثُمَّ دَعَانِي فَقَالَ ادْعُ لِي سکا۔چلو ز بیر اور سعد کو بلاؤ۔میں اُن کے پاس عَلِيًّا فَدَعَوْتُهُ فَنَاجَاهُ حَتَّى ابْهَار انکو بلا لایا اور اُنہوں نے ان دونوں سے مشورہ رحم