صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 24 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 24

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۴ ۸۸ کتاب استتابة المرتدين ٦٩٢٥ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللهِ لَأُقَاتِلَنَّ :۶۹۲۵ : حضرت ابو بکڑ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! میں مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ تو اُن لوگوں کا ضرور مقابلہ کروں گا جنہوں نے نماز الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي اور زکوۃ کے درمیان فرق کیا کیونکہ زکوۃ وہ حق ہے عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ جو مال سے لیا جاتا ہے۔اللہ کی قسم ! اگر اُنہوں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مجھے ایک بکری کا بچہ بھی نہیں دیا جو وہ رسول اللہ مَنْعِهَا قَالَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ عَلى عوام کو دیا کرتے تھے تو اس کے نہ دینے پر بھی میں اُن سے لڑوں گا۔حضرت عمر کہتے تھے: اللہ کی رَأَيْتُ أَنْ قَدْ شَرَحَ اللهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ قسم ! بات صرف یہی تھی کہ میں نے دیکھا کہ اللہ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ۔أطرافه: ١٤٠٠، ١٤٥٦، ٧٢٨٥۔الله نے لڑائی کے لئے حضرت ابو بکر کے سینے کو کھول دیا تھا اور میں سمجھ گیا کہ یہی بات درست ہے۔ريح۔قَتْلُ مَنْ أَبَى قَبُولَ الْقَرَائِضِ وَمَا نُسِبُوا إِلَى الرِّذَةِ: جس نے اسلام کے فرائض ادا کرنے سے انکار کر دیا اُس کا قتل کرنا اور جس قسم کے لوگ ارتداد کی طرف منسوب کئے گئے۔علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں: والما قاتل الصّديق رضي الله تَعَالَى عَنهُ مانعى الزَّكَاةِ لأَنَّهُمُ امْتَدعُوا بالسيف ونصبوا الحزب للأمة (عمدة القاری، جزء ۲۴ صفحه (۸) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زکواۃ دینے سے انکار کرنے والوں سے صرف اس لیے قتال کیا کہ انہوں نے تلوار کے ذریعہ سے زکوۃ روکی اور مسلمانوں کے خلاف جنگ بر پا کی۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” آپ دیکھیں گے کہ علماء سرسری طور پر قرآن اور حدیث کی بحث کر کے بڑی تیزی کے ساتھ دور ابو بکر میں داخل ہوتے ہیں اور اپنے عقائد کو سہارا دینے کے لئے وہاں پناہ ڈھونڈتے ہیں اور کہتے ہیں یہ سنت صدیقی ہے۔سنت محمد ی ان کو بھول جاتی ہے اور سنت صدیقی کی باتیں کرنے لگ جاتے ہیں۔“ مزعومہ ”سنت صدیقی کی حقیقت حالانکہ ”سنت صدیقی بھی وہ سنت نہیں جو حضرت ابو بکر صدیق کی طرف وہ منسوب کرتے ہیں بلکہ تاریخ واضح طور پر اس بات کو جھٹلا رہی ہے کہ حضرت