صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 462
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۶۴ ۹۳ - كتاب الأحكام ایک معمولی بات نہ تھی بلکہ خدا تعالیٰ اس وقت اپنے نبی کو اپنے قبضہ میں لے کر مصالح عام کے لئے ایک نور کو سہو کی صورت میں یا غلط اجتہاد کے پیرایہ میں ظاہر کر دیتا تھا اور پھر ساتھ ہی وحی اپنے جوش میں آجاتی تھی جیسے ایک چلنے والی نہر کا ایک مصلحت کے لئے پانی روک دیں اور پھر چھوڑ دیں پس اس جگہ کوئی عقلمند نہیں کہہ سکتا کہ نہر سے پانی خشک ہو گیا یا اس میں سے اٹھا لیا گیا۔ یہی حال انبیاء کی اجتہادی غلطی کا ہے کہ روح القدس تو کبھی اُن سے علیحدہ نہیں ہوتا۔ مگر بعض اوقات خدا تعالی بعض مصالح کے لئے انبیاء کے فہم اور ادراک کو اپنے قبضہ میں لے لیتا ہے تب کوئی قول یا فعل سہو یا غلطی کی شکل پر اُن سے صادر ہوتا ہے اور وہ حکمت جو ارادہ کی گئی ہے ظاہر ہو جاتی ہے تب پھر وحی کا دریا زور سے چلنے لگتا ہے اور غلطی کو درمیان سے اٹھا دیا جاتا ہے گویا اُس کا کبھی وجود نہیں تھا۔ حضرت مسیح ایک انجیر کی طرف دوڑے گئے تا اُس کا پھل کھائیں اور روح القدس ساتھ ہی تھا مگر روح القدس نے یہ اطلاع نہ دی کہ اس وقت انجیر پر کوئی پھل نہیں۔ باایں ہمہ یہ سب لوگ جانتے ہیں کہ شاذ و نادر معدوم کے حکم میں ہوتا ہے۔ پس جس حالت میں ہمارے سید و مولی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے دس لاکھ کے قریب قول و فعل میں سراسر خدائی کا ہی جلوہ نظر آتا ہے اور ہر بات میں حرکات میں سکنات میں اقوال میں افعال میں روح القدس کے چمکتے ہوئے انوار نظر آتے ہیں تو پھر اگر ایک آدھ بات میں بشریت کی بھی بو آوے تو اس سے کیا نقصان۔ بلکہ ضرور تھا کہ بشریت کے تحقق کے لئے کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا تا لوگ شرک کی بلا میں مبتلا نہ ہو جائیں۔“ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۱۳ تا ۱۱۶) باب ٤٣ : كَيْفَ يُبَايِعُ الْإِمَامُ النَّاسَ امام لوگوں سے کس طرح بیعت لے ۷۱۹۹ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي ۷۱۹۹: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ مجھے بتایا۔ اُنہوں نے یحییٰ بن سعید سے روایت أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ أَخْبَرَنِي کی۔ اُنہوں نے کہا: عبادہ بن ولید نے مجھے بتایا کہ