صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 461 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 461

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۶۱ ۹۳ - كتاب الأحكام جانشینوں اور خلفاء کو بھی بروزی طور پر حاصل ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ اُن سے وہی فیصلہ کراتا ہے جو خیر کا ہوتا ہے حتی کہ اُن کی کوئی بشری یا اجتہادی غلطی بھی جماعت کے لیے شر کا موجب نہیں بنتی بلکہ خیر کا ذریعہ ہی بنتی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انبیاء کے متعلق قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ معصوم ہوتے ہیں اور معصوم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ بلوغت سے پہلے ہی وہ معصوم ہوں کیونکہ عصمت کاملہ جو نبی کو حاصل ہوتی ہے وہ اُس وقت تک اُسے حاصل ہی نہیں ہو سکتی جب تک کہ تقویٰ اور محبت الہی اس کے بلوغ بلکہ ہوش سے پہلے ہی موجود نہ ہو۔جو اُسے بُرائیوں سے محفوظ رکھے اور یہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ الصَّبِيُّ صَبِي وَلَوْ كَانَ نَبِيًّا تو اس کے معنی صرف بچپن کے کھیل کو د کے ہیں نہ کہ بغاوت و شرارت کے۔“ " تعلق باللہ، انوار العلوم، جلد ۲۳ صفحه ۱۷۴) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: جتنا کوئی استغفار کرتا ہے اتنا ہی معصوم ہوتا ہے۔اصل معنے یہ ہیں کہ خدا نے اسے بچایا۔معصوم کے معنے مستغفر کے ہیں۔“ (ملفوظات، جلد دوم صفحہ ۵۶۰) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: "اگر یہ کہا جائے کہ انہیں احادیث کی کتابوں میں بعض امور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اجتہادی غلطی کا بھی ذکر ہے اگر کل قول و فعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وحی سے تھا تو پھر وہ غلطی کیوں ہوئی گو آنحضرت اس پر قائم نہیں رکھے گئے۔تو اس کا یہ جواب ہے کہ وہ اجتہادی غلطی بھی وحی کی روشنی سے دور نہیں تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے قبضہ سے ایک دم جدا نہیں ہوتے تھے پس اُس اجتہادی غلطی کی ایسی ہی مثل ہے جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں چند دفعہ سہو واقع ہوا تا اس سے دین کے مسائل پیدا ہوں سو اسی طرح بعض اوقات اجتہادی غلطی ہوئی تا اُس سے بھی تکمیل دین ہو۔اور بعض بار یک مسائل اُس کے ذریعہ سے پیدا ہوں اور وہ سہو بشریت بھی تمام لوگوں کی طرح سہو نہ تھا بلکہ دراصل ہمرنگ وحی تھا کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص تصرف تھا جو نبی کے وجود پر حاوی ہو کر اُس کو کبھی ایسی طرف مائل کر دیتا تھا جس میں خدا تعالیٰ کے ہت مصالح تھے۔سو ہم اُس اجتہادی غلطی کو بھی وحی سے علیحدہ نہیں سمجھتے کیونکہ وہ