صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 460
۹۳ - كتاب الأحكام صحيح البخاری جلد ۱۶ البِطانَةُ کا معنی ہے اللہ عَلاء یعنی راز دار اور خیال کا معنی ہے شر۔علامہ ابن حجر لکھتے ہیں کہ دُخَلاء لفظ دخیل کی جمع ہے اور اس سے مراد ایسا شخص ہے جو نگر ان کے پاس خلوت میں آتا ہو اور نگران اُس پر اپنی راز کی باتیں ظاہر کرتا ہو اور رعایا کی ایسی باتیں جو نگران نہیں جانتا وہ نگر ان کو بتاتا ہو اور نگران اُس کی خبروں کو سچا مانتے ہوئے اُس کے تقاضے کے مطابق عمل کرتا ہو۔(فتح الباری جزء ۱۳ صفحه ۲۳۵، ۲۳۶) الْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللهُ تعالى: علامہ بدر الدین مینی لکھتے ہیں: الْمَعصُوم من عصمة الله بِأَن حماه عَن الْوُقُوع فِي الْهَلَاكَ يُقَال: عصمه الله من الْمَكْرُوها وَقَاه وحفظه والفرق بين عصمَة الْمُؤْمِنِينَ وعصمة الْأَنْبِيَاء عليهم السّلام، أن عصمة الأَنْبِيَاء بطريق الوُجُوب، وفي حق غير هم بطريق الجواز (عمدة القارى، كتاب القدر باب المعصوم من عصم الله، جزء ۲۳ صفحه (۱۵۵) معصوم وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ گناہوں سے بچائے رکھے اور وہ ہلاکت سے محفوظ رہے، کہا جاتا ہے کہ اللہ نے اس کو مکروہ سے بچایا اور محفوظ رکھا۔مومنین کی عصمت اور انبیاء کی عصمت اللہ میں یہ فرق ہے کہ انبیاء کی عصمت بطور وجوب کے ہے اور ان کے علاوہ دیگر کی بطور جواز کے ہے۔حدیث نبوی کے الفاظ الْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللهُ تعالی سے ظاہر ہے کہ انسان اپنی تمام تر کوششوں اور وسائل کے باوجود محفوظ و معصوم نہیں بن سکتا جب تک اللہ تعالیٰ کا دست قدرت اس کی دستگیری نہ کرے اس لیے ہر نیک کام میں انشاء اللہ کہنے کی تاکید کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ کی منشاء کے خلاف کوئی کام نہیں ہو سکتا۔انبیاء بلکہ خاتم الانبیاء جن کو عصمت کبری حاصل تھی وہ بھی استغفار کے ذریعہ اپنی عصمت کی حفاظت اور ہر لمحہ اس معصومیت میں ترقی اور خدائے قدوس کی طرف دائمی سفر اور وصل اور بقائے باری تعالیٰ کے مدارج کی ترقی کے لیے بکثرت استغفار کرتے تھے۔بِطَانَتَانِ بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ وَبِطَانَةً تَأْمُرُهُ بِالشّر : دو قسم کے راز دار۔ایک راز دار تو وہ جو اسے بھلائی کا مشورہ دیتے ہیں۔اور ایک راز دار وہ جو اُسے برائی کا مشورہ دیتے ہیں۔خلفاء کو چاہے وہ خلیفہ اللہ یعنی خدا کا نبی ہو یا خلیفہ الرسول ہو ہر دو قسم کے مشورے ملتے ہیں۔یہ خیر و شر نسبتی امر ہے۔جیسے بدر کے قیدیوں کے متعلق حضرت ابو بکر کا مشورہ تھا کہ فدیہ لے کر یا بطور احسان ان کو چھوڑ دیا جائے جبکہ حضرت عمرؓ کا مشورہ تھا کہ ان کو قتل کر دیا جائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر کے مشورہ کو قبول فرمایا اور اسی پر عمل ہوا اور اسی کے مطابق بعد میں آیات بھی نازل ہوئیں۔مگر بنو قریظہ کے مردوں یا جنگجوؤں کے متعلق حضرت سعد بن ابی وقاص کا موقف ان کے قتل کا تھا اور اس پر عمل ہو اواقعات نے بتایا کہ ان بد عہدوں اور آستین کے سانپوں کا قتل کیا جانا ہی امر خیر تھا۔نبی کی معصومیت یہ ہے کہ اس کو ہر قسم کے مشورے ملتے ہیں خیر کے بھی اور شر کے بھی مگر نبی کی زبان حق بیان سے وہی فیصلہ جاری ہوتا ہے جو خیر پر مبنی ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پہلو کو ایک موقع پر یوں بیان فرمایا اشفَعُوا تُؤْجَرُوا وَيَقْضِي اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيْهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاء " تم بھی سفارش کرو تمہیں ثواب ملے گا اور اللہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے وہی فیصلہ کرے گا جو اللہ تعالیٰ کی منشاء ہو گی۔یہ عصمت انبیاء کے بعد اُن کے ا (صحيح البخارى، كِتَابُ الزَّكَاةِ، بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى الصَّدَقَةِ وَالشَّفَاعَةِ فِيهَا، روایت نمبر ۱۴۳۲)