صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 459 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 459

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۵۹ ۹۳ - كتاب الأحكام تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحُصُّهُ عَلَيْهِ حکم دیتا ہے اور اس کو اس کی ترغیب دیتا رہتا ہے فَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللهُ تَعَالَى۔ اور معصوم وہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بچایا۔ اور وَقَالَ سُلَيْمَانُ عَنْ يَحْيَى أَخْبَرَنِي سليمان (بن بلال) نے بھی (انصاری) سے نقل کرتے ہوئے کہا کہ ابن شہاب نے بھی یہی مجھ کو ابْنُ شِهَابٍ بِهَذَا وَعَنِ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ بتایا اور اُنہوں نے ابن ابی عقیق اور موسیٰ (بن وَمُوسَى عَنِ ابْنِ شِهَابٍ مِثْلَهُ۔ وَقَالَ عتبہ ) سے روایت کی۔ اُن دونوں نے بھی ابن شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو شہاب سے اسی طرح روایت کیا۔ اور شعیب نے سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ۔ قَوْلَهُ۔ وَقَالَ زہری سے نقل کیا کہ ابوسلمہ نے حضرت ابو سعید الْأَوْزَاعِيُّ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ حَدَّثَنِي سے روایت کرتے ہوئے مجھ سے اُن کا یہی قول الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي بیان کیا اور اوزاعی اور معاویہ بن سلام نے کہا کہ هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ زہری نے مجھ سے بیان کیا کہ ابو سلمہ نے مجھے وَسَلَّمَ۔ وَقَالَ ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ وَسَعِيدُ بتایا۔ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ اُنہوں نے نبی صلی اللہ بْنُ زِيَادٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي علیہ وسلم سے روایت کی۔ اور ابن ابی حسین اور سَعِيدٍ ۔۔ قَوْلَهُ۔ وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سعید بن زیاد نے ابو سلمہ سے سے نقل کیا کہ انہوں أَبِي جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي صَفْوَانُ عَنْ أَبِي نے حضرت ابو سعید سے ان کا یہ قول روایت کیا سَلَمَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ سَمِعْتُ اور عبید اللہ بن ابی جعفر نے کہا کہ مجھ سے النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ طرفه : ٦٦١١ - صفوان نے بیان کیا۔ اُنہوں نے ابو سلمہ سے، ابو سلمہ نے ابو ایوب سے روایت کی اُنہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ シ تشريح : بِطَانَةُ الْإِمَامِ وَأَهْلُ مَشْوریہ : امام کے رازدار اور اس کے مشیر علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ ارشادِ باری تعالی ہے کہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا ( آل عمران : ۱۱۹) یعنی اے ایماندارو! اپنے لوگوں کو چھوڑ کر دوسروں کو) راز دار دوست نہ بناؤ، وہ تم سے بدسلوکی کرنے میں کوئی کمی نہیں کرتے۔ ابو عبیدہ نے اس آیت کریمہ کے معنی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ