صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 455
صحیح البخاری جلد ۱۶ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: 31 ۴۵۵ ۹۳ - كتاب الأحكام ہر قل کے سوالات اور ابو سفیان کے جوابات کو بھی ایک سرسری نظر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تصنع اور بناوٹ سے بالکل خالی اور واقعات پر مبنی ہیں۔ان سوالات سے نیز ہر قتل کے استدلالات سے بھی مترشح ہوتا ہے کہ وہ ایسے شخص کے ہیں جو انبیاء کے حالات سے واقف اور انبیاء کے ساتھ جو سنت الہی قدیم سے چلی آتی ہے، اس سے پورے طور پر آگاہ ہے۔امام بخاری رحمہ اللہ علیہ نے باب بدء الوحی میں یہ واقعہ پیش کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ اخلاق کے متعلق ایک دوسری شہادت پیش کی ہے جو آپ کے ایک سخت دشمن کی ہے اور یہ شہادت اس نے غائبانہ دی ہے اور ایک ایسے موقع پر دی ہے جہاں انسان طبعا سچ بولنے کی طرف مائل ہوتا ہے۔یعنی ایک بادشاہ کے سامنے رومی اراکین کی بھری مجلس میں اس قسم کا ماحول انسان کی طبیعت پر ضرور اثر انداز ہوتا ہے اور پھر ابو سفیان کا اپنا بیان بھی ہے کہ اگر مجھے اس بات کا خیال نہ ہو تا کہ میرے ساتھی میرے متعلق باہر جا کر چر چا کریں گے کہ میں نے جھوٹ بولا ہے تو میں ضرور جھوٹ بولتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ابو سفیان یہ شہادت دے رہے تھے تو دشمنی کے جذبات مردہ نہیں بلکہ زندہ تھے اور وہ اپنی قوت میں ایسے شدید تھے کہ جہاں بھی ان کو کام کرنے کا موقع ملا ہے وہ اس سے چوکے نہیں۔چنانچہ ابو سفیان کہتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے ذکر پر ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر چوٹ کرنے کا انہیں موقع ملا۔یعنی انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے تو کبھی بد عہدی نہیں کی مگر اب اس صلح کے متعلق دیکھیں کہ کیا کرتے ہیں۔غرض یہ امور ہیں جو ابو سفیان کی شہادت کو بہت بڑی اہمیت دیتے ہیں اور اس میں کیا شک ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ اخلاق کو دیکھ کر سارا عرب الأمين الآمين کے لقب سے آپ کو پکارتا تھا اور یہی وہ صداقت و امانت ہے کہ جس کی بناء پر ہر قل کہتا ہے کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ لوگوں پر تو وہ جھوٹ نہ بولے اور خدا پر جھوٹ بولے۔“ (ترجمه و شرح صحیح بخاری جلد اول صفحه ۳۰)