صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 454
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۵۴ عبد الله ۹۳ - كتاب الأحكام ٧١٩٦: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۱۹۶ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے زہری سے روایت کی۔اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بن عبید الله بن عبد اللہ نے مجھے خبر دی کہ حضرت بن عباس نے انہیں بتایا کہ حضرت عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ ابوسفیان بن حرب نے انہیں بتایا کہ ہر قل نے أَخْبَرَهُ أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبٍ ان كو مع ایک قریش کے قافلے کے بلا بھیجا۔پھر مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ قُلْ لَهُمْ اپنے ترجمان سے کہنے لگا۔ان سے کہہ میں اس إِنِّي سَائِلٌ هَذَا فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذَّبُوهُ شخص سے پوچھنے لگا ہوں اگر یہ مجھ سے جھوٹ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ لِلتَّرْجُمَانِ قُلْ کہے تو تم اس کو جھٹلا دینا۔پھر انہوں نے ساری لَهُ إِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَسَيَمْلِكُ حدیث بیان کی اور ہرقل نے ترجمان سے کہا۔مَوْضِعَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ۔اس سے کہو جو تم کہتے ہو اگر یہ سچ ہے تو عنقریب وہ میرے ان دونوں پاؤں رکھنے کی جگہ کا مالک ہو جائے گا۔أطرافه : ٧، ٥١ ٢٦٨١، ۲۸۰٤، ۲۹٤۱، ۲۹۷۸، ۳۱۷۴، ٤٥٥۳، ٥٩٨٠ ٦٢٦٠، ٧٥٤١- تشریح : تَرْجَمَةُ الْحَكَامِ وَهَلْ يَجُوزُ تَرْجُمَانٌ واحد: حکام کی ترجمانی کرنا اور کیا ایک ہی ترجمان کا ہونا درست ہو گا۔علامہ عینی بیان کرتے ہیں کہ لفظ ترجمہ کے معنی ہیں کہ کسی کلام کی ایک زبان سے دوسری زبان میں وضاحت کرنا۔اسی سے لفظ ترجمان ہے۔یعنی ترجمہ کرنے والا۔(عمدۃ القاری جزء ۲۴ صفحہ ۲۶۶) علام ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ امام بخاری کا معنونہ قول کہ کیا ایک ہی ترجمان کا ہونا جائز ہے ؟“ اس بارے میں فقہاء کے اختلاف کی طرف اشارہ کرتا ہے۔امام ابو حنیفہ کے قول کے مطابق ایک ترجمان بھی کافی ہے اور امام احمد سے بھی اس مضمون کی ایک روایت منقول ہے۔امام بخاری، علامہ ابن منذر اور علماء کی ایک جماعت نے اسی موقف کو اختیار کیا ہے۔جبکہ امام شافعی کا قول یہ ہے کہ اگر حاکم کسی فریق کی زبان نہ جانتا ہو تو وہ (بصورت مترجم ) گواہی لینے کی طرح دو عادل لوگوں کی بات ہی قبول کرے۔حنابلہ بھی امام شافعی کے اس قول کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔(فتح الباری جزء ۱۳ صفحه ۲۳۰) زیر باب دونوں روایات میں ترجمان کی ضرورت و افادیت بتائی گئی ہے۔اور یہ کہ ترجمان رکھنے کا رواج اقوام عالم میں جاری تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طریق کو اختیار فرمایا۔حضرت زید بن ثابت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ترجمان بنے کی سعادت ملی۔