صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 453
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۵۳ ۹۳ - كتاب الأحكام کئی دفعہ مار پیٹ کر بھی اقرار کروا لیتی ہے حالانکہ وہ اقرار جبر کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پھر یہ اقرار ایک دفعہ کافی نہیں بلکہ چار دفعہ بغیر پولیس کے قاضی کے سامنے ہونا چاہئے۔ اور اقرار بھی قسمیہ ہونا چاہئے۔ تب اس کو حد لگے گی۔ لیکن اگر ایسا شخص چار دفعہ اقرار کرنے کے باوجود بعد میں انکار کر دے تو اس کو حد زنا نہیں لگے گی۔ ہاں اگر اس نے کسی عورت کا نام لیا ہو تو حد قذف اسکو لگے گی کیونکہ کیونکہ اس نے ایک عورت پر زنا کا الزام لگایا۔ (فرمودات صلح ۔ رمودات مسیح موعود صفحه ۲۷۷، ۲۷۸) بَاب ٤٠ : تَرْجَمَةُ الْحُكَّامِ وَهَلْ يَجُوزُ تَرْجُمَانٌ وَاحِدٌ حکام کی ترجمانی کرنا اور کیا ایک ہی ترجمان کا ہونا درست ہو گا ٧١٩٥: وَقَالَ خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ۷۱۹۵ : خارجہ بن زید بن ثابت نے حضرت زید ثَابِتٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ بن ثابت سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ نبی صلی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَتَعَلَّمَ اللہ علیہ وسلم نے اُن کو یہودیوں کا طریقہ تحریر كِتَابَ الْيَهُودِ حَتَّى كَتَبْتُ لِلنَّبِيِّ سیکھنے کا حکم دیا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُتُبَهُ وَأَقْرَأْتُهُ لیے آپ کے خط لکھے اور یہود کے خط جب وہ كُتُبَهُمْ إِذَا كَتَبُوا إِلَيْهِ۔ وَقَالَ عُمَرُ آپ کو لکھتے میں نے آپ کو پڑھ کر سنائے۔ اور وَعِنْدَهُ عَلِيٌّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَعُثْمَانُ حضرت عمرؓ نے کہا اور اس وقت ان کے پاس حضرت علیؓ اور حضرت عبد الرحمن بن حاطب ) مَاذَا تَقُولُ هَذِهِ؟ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَاطِبٍ فَقُلْتُ تُخْبِرُكَ بِصَاحِبِهَا حضرت عبد الرحمن بن حاطب کہتے تھے میں نے الَّذِي صَنَعَ بِهَا۔ وَقَالَ أَبُو جَمْرَةَ کہا: آپ کو یہ اپنے اس ساتھی کے متعلق بتا رہی كُنتُ أَتَرْجِمُ بَيْنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَيْنَ ہے جس نے اس کے ساتھ بدکاری کی۔ اور اور حضرت عثمان تھے۔ یہ عورت کیا کہتی ہے ؟ النَّاسِ۔ وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لَا بُدَّ ابو جمرہ کہتے تھے میں حضرت ابن عباس اور لِلْحَاكِمِ مِنْ مُتَرْجِمَيْنِ۔ لوگوں کے درمیان ترجمانی کیا کرتا تھا۔ اور بعض لوگوں نے کہا حاکم کے لیے دو ترجمانوں کا ہونا نہایت ضروری ہے۔