صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 452
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۴۵۲ ۹۳ - كتاب الأحكام تشريح۔هَلْ يَجُوزُ لِلْحَاكِمِ أَن يَبْعَثَ رَجُلًا وَحْدَهُ لِلنَّظَرِ فِي الْأُمُورِ : کیا حاکم کے لئے یہ جائز ہے کہ معاملات کی تحقیق کرنے کے لئے صرف اکیلے شخص کو بھیجے۔علامہ مہلب کہتے ہیں کہ اس باب میں عذر کی صورت میں حاکم کے کارروائی کرنے کے لیے کسی ایک شخص کو بھیجنے کی دلیل ہے اور (یہ کہ اُس کے لیے جائز ہے کہ) وہ گواہیوں کی پوشیدہ طور پر اصلیت معلوم کرنے کے لیے کسی قابل اعتماد شخص کو مقرر کر لے۔انہوں نے کہا: اس سے بعض لوگوں نے حکم کی تنفیذ کے جواز کا بھی استدلال کیا ہے جیسا کہ (زیر باب واقعہ کی دوسری جگہ روایت میں ) آنحضور علی ایم کے الفاظ فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارُ مُجھا ہیں ( بخاری روایت نمبر ۶۸۵۹) یعنی اگر وہ اقرار کرے تو اُسے سنگسار کر دینا۔(فتح الباری جزء ۱۳ صفحہ ۲۲۹) اور کمر حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں: وَ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَربَعَةِ شُهَدَاء ( النور : ۵) الزام زنا کی شہادت کا طریق بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ دوسرے پر زنا کا الزام لگانے والا چار گواہ لائے جو اس الزام زنا کی تصدیق کرتے ہوں۔مگر رسول کریم ملی ا یکم اور صحابہ کے اقوال سے ثابت ہے که اگر گواه مختلف جگہوں کے متعلق شہادت دے رہے ہوں تو وہ شہادت ہرگز تسلیم نہیں کی جائے گی۔اور چاہے وہ چار گواہ ہوں پھر بھی وہ ایک ہی جگہ کے متعلق الزام لگانے والے کے علاوہ چار عینی شاہد ہوں اور دوسرے ان کی گواہی اتنی مکمل ہو کہ وہ اس کی تکمیل کی شہادت دیں۔فقہاء نے لکھا ہے کہ وہ چاروں گواہ یہ گواہی دیں کہ انہوں نے مرد و عورت کو اس طرح اکٹھے دیکھا ہے جس طرح سرمہ دانی میں سلائی پڑی ہوتی ہے۔فقہاء کے نزدیک مجرم پر حد زنا تین طرح لگتی ہے۔اوّل قاضی کے علم سے۔دوئم اقرار سے۔سوئم چار گواہوں کی شہادت سے۔مگر قاضی کے علم سے حد لگانا میرے نزدیک قرآن کریم کی رو سے غلط ہے کیونکہ قاضی بہر حال ایک شاہد بنتا ہے لیکن قرآن کریم کی رو سے پانچ شاہد ہونے چاہئیں۔ایک الزام لگانے والا اور چار مزید گواہ۔بلکہ میرے نزدیک اگر قاضی کو کوئی والا ایسا علم ہو تو اسے مقدمہ سننا ہی نہیں چاہتے بلکہ اس مقدمہ کو کسی دوسرے قاضی کے پاس بھیج دینا چاہئے اور خود بطور گواہ پیش ہونا چاہئے۔قاضی صرف امور سیاسیہ میں اپنے علم کو کام میں لا سکتا ہے حدود شرعیہ میں نہیں۔کیونکہ حدود شرعیہ کی سزا خود خدا تعالیٰ نے مقرر کی ہوئی ہے۔اسی طرح گواہی کا طریق بھی اس کا مقرر کردہ ہے۔اقرار کے متعلق بھی یہ امر یا درکھنا چاہئے کہ اقرار وہ ہے جو بغیر جبر اور تشدد کے ہو ورنہ پولیس