صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 451
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۵۱ ۹۳ - كتاب الأحكام أَعْرَابِي فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ اقْضِ جہنی سے روایت کی ۔ اُن دونوں نے کہا کہ ایک بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ فَقَامَ خَصْمُهُ فَقَالَ اعرابی آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ ! ہمارے صَدَقَ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ در میان کتاب اللہ کے موافق فیصلہ فرماویں تو فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا اس کا مخالف کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اس نے سچ کہا ہے۔ آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے موافق عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَقَالُوا لِي فیصلہ فرمادیں۔ اس اعرابی نے کہا: میرا بیٹا اس عَلَى ابْنِكَ الرَّجْمُ فَفَدَيْتُ ابْنِي مِنْهُ کے پاس نوکر تھا اور اُس نے اس کی بیوی سے زنا بِمِائَةٍ مِنَ الْغَنَمِ وَوَلِيدَةٍ ثُمَّ سَأَلْتُ کیا لوگوں نے مجھ سے کہا: تمہارے بیٹے کو سنگسار أَهْلَ الْعِلْمِ فَقَالُوا إِنَّمَا عَلَى ابْنِكَ کیا جائے گا مگر میں نے ایک سو بکریاں اور ایک جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ فَقَالَ النَّبِيُّ لونڈی دے کر اپنے بیٹے کو اس سے چھڑالیا۔ پھر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَقْضِيَنَّ اس کے بعد میں نے اہل علم سے پوچھا تو اُنہوں بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللهِ أَمَّا الْوَلِيدَةُ نے کہا: تمہارے بیٹے کو تو صرف سو کوڑے پڑنے وَالْغَنَمُ فَرَدَّ عَلَيْكَ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ تھے اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جانا تھا۔ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَأَمَّا أَنْتَ يَا أَنَيْسُ بی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کتاب اللہ کے موافق ہی تمہارے درمیان فیصلہ کروں گا۔ لِرَجُلٍ فَاغْدُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَارْجُمْهَا لونڈی اور بکریاں جو ہیں وہ تمہیں واپس ملیں گی فَغَدَا عَلَيْهَا أُنَيْسٌ فَرَجَمَهَا۔ اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لئے جلاوطن کیا جائے اور ایک شخص کو مخاطب کر کے فرمایا۔ تم اسے ائیں! کل صبح اس شخص کی بیوی کے پاس جاؤ اور اُسے سنگسار کر دو۔ چنانچہ حضرت اُنہیں اس کے پاس صبح کو گئے اور اُس کو سنگسار کر دیا۔ أطراف الحديث ۷۱۹۳ ۲۳۱۵، ۲۹۹۵، ۲۷۲۴، ٦٦٣٣، ٦٨٢٧، ٦٨٣٣، ٦٨٣٥، -٦٨٤٢، ٦٨٥٩، ٧٢٥٨، ٧٢٦٠، ٧٢٧٨ أطراف الحديث ۷۱۹٤ ۲۳۱۴ ، ٢٦٤٩، ٢٦٩٦ ، ٢٧٢٥، ٦٦٣٤ ، ٦٨٢٨، ٦٨٣١، ۷۲۷۹ ،۷۲٦٨٣٦، ٦٨٤٣ ، ٦٨٦٠، ٥٩