صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 450 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 450

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۴۵۰ ۹۳ - كتاب الأحكام صَاحِبَكُمْ وَإِمَّا أَنْ يُؤْذِنُوا بِحَرْبِ یعنی جو عمر میں بڑا تھا۔چنانچہ حضرت حویصہ نے فَكَتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ گفتگو کی۔پھر اس کے بعد حضرت محیصہ نے گفتگو وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ بِهِ فَكُتِبَ مَا قَتَلْنَاهُ کی۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا تو وہ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تمہارے اس ساتھی کی دیت دیں یا جنگ کا اعلان کر دیں۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ย وَسَلَّمَ لِحُوَتِصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ کے متعلق اُن کو لکھا تو آپ کو جو ابا یہ لکھا گیا کہ ہم الرَّحْمَنِ أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُونَ دَمَ نے اس کو قتل نہیں کیا۔تب رسول اللہ صلی اللہ صَاحِبِكُمْ؟ قَالُوا لَا۔قَالَ أَفَتَحْلِفُ عليه وسلم نے حضرت حویصہ ، حضرت محیصہ اور لَكُمْ يَهُودُ قَالُوا لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ حضرت عبد الرحمن سے فرمایا: کیا تم قسم کھاؤ گے فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اور اپنے ساتھی کے خون بہا کے حقدار بنو گے؟ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ مِائَةَ نَاقَةٍ حَتَّى اُنہوں نے کہا: نہیں۔آپ نے فرمایا: تو پھر کیا أُدْخِلَتِ الدَّارَ قَالَ سَهْل فَرَكَضَتْنِي یہود تمہارے سامنے قسمیں کھائیں ؟ اُنہوں نے کہا: وہ تو مسلمان نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ایک سو اونٹنی اس کی دیت دی اور وہ گھر میں لائی گئیں۔حضرت سہل کہتے تھے: ان میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات بھی ماری تھی۔مِنْهَا نَاقَةٌ أطرافه : ۲۷۰۲، ۳۱۷۳، ٦١٤٣، ٦٨٩٨۔بَاب ۳۹: هَلْ يَجُوزُ لِلْحَاكِمِ أَنْ يَبْعَثَ رَجُلًا وَحْدَهُ لِلنَّظَرِ فِي الْأُمُورِ کیا حاکم کے لئے یہ جائز ہے کہ معاملات کی تحقیق کرنے کے لئے صرف اکیلے شخص کو بھیجے ٧١٩٤،٧١٩٣ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا ۷۱۹۳ ۷۱۹۴: آدم نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابْنُ أَبِي ذِلْبٍ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ إِلى ذئب نے ہمیں بتایا۔زہری نے ہم سے بیان عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ کیا۔زہری نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے ، عبید اللہ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَا جَاءَ نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد