صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 442
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۳ - كتاب الأحكام الظُّهْرَ ثُمَّ أَتَاهُمْ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ فَلَمَّا آپ نے ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر آپ اُن کے پاس حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَأَذَّنَ بِلَالٌ آئے کہ اُن کے درمیان صلح کرائیں۔ جب عصر وَأَقَامَ وَأَمَرَ أَبَا بَكْرٍ فَتَقَدَّمَ وَجَاءَ کی نماز کا وقت آیا تو حضرت بلال نے اذان دی النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو اور تکبیر اقامت کہی اور حضرت ابو بکر سے کہا وہ بَكْرٍ فِي الصَّلَاةِ فَشَقَّ النَّاسَ حَتَّى آگے بڑھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت قَامَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَتَقَدَّمَ فِي آئے جبکہ حضرت ابو بکر نماز پڑھا رہے تھے۔ الصَّفِ الَّذِي يَلِيهِ قَالَ وَصَفْحَ الْقَوْمُ آپ لوگوں کی صفیں چیر کر حضرت ابو بکر کے وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ پیچھے کھڑے ہوئے ) رے ہوئے اور آگے بڑھ کر اس صف لَمْ يَلْتَفِتْ حَتَّى يَفْرُغَ فَلَمَّا رَأَى میں شریک ہو گئے جو حضرت ابو رت ابو بکر کے قریب التَّصْفِيحَ لَا يُمْسَكُ عَلَيْهِ الْتَفَتَ تھی۔ حضرت سہل کہتے تھے اور لوگوں نے تالیاں فَرَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بجائیں اور حضرت ابو بکر کی یہ عادت تھی کہ جب نماز شروع کر دیتے تو وہ تا وقتیکہ نماز سے فارغ نہ خَلْفَهُ فَأَوْمَا إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ امْضِهُ وَأَوْمَا بِيَدِهِ ہو جاتے ادھر اُدھر توجہ نہ کرتے۔ جب اُنہوں نے دیکھا کہ ان کے لئے تالیاں بجائی جارہی ہیں هَكَذَا وَلَبِثَ أَبُو بَكْرٍ هُنَيَّةً فَحَمِدُ بند ہی نہیں ہوتیں تو اُنہوں نے دھیان کیا۔ نبی اللَّهَ عَلَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پیچھے دیکھا۔ نبی صلی اللہ وَسَلَّمَ ثُمَّ مَشَى الْقَهْقَرَى فَلَمَّا رَأَى علیہ وسلم نے اُن کو اشارہ کیا کہ نماز پڑھائے جاؤ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ اور اپنے ہاتھ سے یوں اشارہ کیا اور حضرت ابو بکر تَقَدَّمَ فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کچھ دیر تو ٹھہرے رہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ اس ارشاد پر اللہ کا شکریہ کرنے لگے پھر پچھلے قَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ إِذْ أَوْمَأْتُ پاؤں ہٹے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو إِلَيْكَ أَنْ لَا تَكُونَ مَضَيْتَ ؟ قَالَ لَمْ آگے بڑھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز يَكُنْ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ النَّبِيَّ پڑھائی۔ جب آپ نماز ختم کر چکے تو آپؐ نے