صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 443 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 443

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۴۳ ۹۳ - كتاب الأحكام صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لِلْقَوْمِ فرمایا: ابو بکر تمہیں کس بات نے روکا جبکہ میں نے إِذَا نَابَكُمْ أَمْرٌ فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ تم کو اشارہ بھی کیا نماز کیوں نہ پڑھاتے رہے؟ وَلْيُصَفِّحِ النِّسَاءُ۔اُنہوں نے کہا کہ ابن ابی قحافہ کی شان نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا امام ہو اور آپ نے لوگوں سے کہا کہ جب تمہیں کوئی بات پیش آئے تو مرد سبحان اللہ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔أطرافه : ٦٨٤، ۱٢٠١ ، ۱۲۰ ، ۱۲۱۸، ۱۲۳۴، ٢٦۹۰، ٢٦٩٣- 66 : : الْإِمَامُ يَأْتِي قَوْمًا فَيُصْلِحُ بَيْتهم: امام جو کسی قوم کے پاس آئے اور اُن کے در میان صلح کرائے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ پیش کیا گیا ہے کہ مطابق مثل "قضیہ زمین بر سر زمین آپ موقع نزاع پر خود تشریف لے جاتے اور لوگوں کے درمیان صلح صفائی کراتے تھے۔امام جماعت کے فرائض منصبی میں سے ہے کہ وہ افرادِ معاشرہ کی نگرانی رکھے اور جہاں رخنہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہو ، انسداد کا خاطر خواہ انتظام کرے۔یہ نہ ہو کہ اپنا چنگل مضبوط رکھنے کے لئے ایک کو دوسرے سے اُلجھائے رکھے جو فرعون کی پالیسی تھی۔اللہ تعالٰی فرماتا ہے: اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَابِفَةً مِنْهُمْ يُذَبِّحُ ابْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِ نِسَاءَهُمْ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ ) (القصص:۵) یعنی فرعون نے (اپنے) ملک میں بڑی تعلی سے کام لیا اور اُس کے رہنے والوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا۔جس سے وہ ایک گروہ کو کمزور کرنا چاہتا تھا۔اسی طرح اُن کے بیٹوں کو قتل کرتا تھا اور اُن کی عورتیں زندہ رکھ کر (بطور کنیز ) استعمال کرتا تھا۔وہ یقینا مفسد لوگوں میں سے تھا۔نیز فرمایا: ط ( ترجمه و شرح صحیح بخاری جلد ۵ صفحه ۵) فریقین کے درمیان صلح کرانا اور اُن کو فتنہ سے بچانا معاشرہ کے واجبات سے ہے۔“ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: (شرح صحیح بخاری جلد ۵ صفحه ۹) اگر دو قومیں مسلمانوں میں سے آپس میں لڑ پڑیں تو ان کی آپس میں صلح کرادو ؛ یعنی دوسری