صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 441 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 441

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱ ۹۳ - كتاب الأحكام حضرت عبد اللہ بن عمر کا بیان ہے کہ انہوں نے حضرت خالد بن ولید کے پیغام پر اپنے قیدی قتل نہیں کئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعہ کا ذکر کیا۔ جس پر آپ نے ہاتھ اُٹھائے اور حضرت خالد بن ولید سے بیزاری اور ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ ابن اسحاق اور ابن سعد کے بیان میں ہے کہ مجاہدین میں بنو سلیم اور مدلج قبیلے کے جنگجو بھی شامل تھے جو بنو جذیمہ کی طرح بنو کنانہ کی ایک شاخ تھے اور بنو جذیمہ کو اس سے پہلے کسی جنگ میں نقصان پہنچا چکے تھے۔ جب بنو جذیمہ نے بنو سلیم و مدلج کو مجاہدین اسلام کے لشکر کے ساتھ دیکھا تو وہ ان سے مقابلہ کرنے کے لئے مسلح ہو گئے۔ حضرت خالد نے اُن سے کہا کہ لوگ مسلمان ہو چکے ہیں، لڑائی کس لئے ؟ ہتھیار ڈال دو۔ مجرم نامی سردار نے انہیں مشورہ دیا کہ ہتھیار نہ ڈالنا، ورنہ قتل و قید ہے۔ قوم کے بعض لوگوں نے اُسے روکا اور کہا کہ خونریزی کیوں کراتے ہو۔ لوگ تو مسلمان ہو چکے ہیں۔ ابن ہشام کی روایات سے پایا جاتا ہے کہ ان قبائل بنی کنانہ کے درمیان بعض خونریزیوں کے انتقام کا سوال بھی تھا جس کی وجہ سے بعض لڑے اور مارے اور قید کئے گئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ بنو سلیم کیے جنگجو لوگوں نے حضرت خالد بن ولیڈ کے فتویٰ پر اپنے بعض قیدی کسی دیرینہ انتقام میں قتل کر دیئے اور ان کے اظہارِ اسلام کو نفاق پر محمول کیا لیکن مہاجرین و انصار نے خالد کا یہ فتویٰ قبول نہیں کیا اور اپنے قیدی مذکورہ بالا الفاظ سے اظہار اسلام پر آزاد کر دیئے۔ (تفصیل کے لئے السیرة النبوية لابن هشام ، مسير خالد بن الوليد بعد الفتح الى بني جذيمة، جزء ۲ صفحہ ۴۲۸ تا ۴۳۱)۔“ ترجمه و شرح صحیح بخاری جلد ۹ صفحه ۱۹۴) بَاب ٣٦ : الْإِمَامُ يَأْتِي قَوْمًا فَيُصْلِحُ بَيْنَهُمْ امام جو کسی قوم کے پاس آئے اور اُن کے درمیان صلح کرائے ۷۱۹۰: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ۷۱۹۰: ابوالنعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد نے حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمِ الْمَدِيْنِيُّ عَنْ ہمیں بتایا۔ ابو حازم مدینی نے ہم سے بیان کیا۔ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِي قَالَ كَانَ اُنہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی سے قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرٍو فَبَلَغَ ذَلِكَ روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: بنو عمرو کے درمیان النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی لڑائی ہوئی۔ یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو