صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 439
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۳۹ ۹۳ - كتاب الأحكام الدلتیا لنڈ سے ہے جس کے معنے ہیں سختی سے جھگڑنا۔آلت افعل کے وزن پر اسم تفضیل ہے؛ پرلے درجے کا جھگڑالو - لبید کے معنے ہیں: کان سے نچلا گردن کا حصہ اور تللد کے معنی ہوتے ہیں: گردن دائیں بائیں پھیری۔جیسے ایک جھگڑالو جھگڑے کے وقت ادھر ادھر اپنی گردن پھیرتا ہے۔جس جہت سے بھی دلائل دے کر اسے سمجھانے کی کوشش کی جائے۔اسی جہت سے وہ اپنا مطلب نکالنا چاہتا ہے اور بہٹ نہیں چھوڑتا۔(لسان العرب - لدو) حدیث نبوی میں ایسا شخص نہایت ہی قابل نفرت قرار دیا گیا ہے۔ووقع حضرت خلیفتہ المسیح الثالث "فرماتے ہیں: جو شخص جھگڑالو ہوتا ہے وہ ایثار کی جڑیں کا تا ہے۔وہ دوسرے کی ہر بات کو اپنی بے عزتی پر محمول کرتا ہے۔کہنے والے کے ذہن میں وہ بات نہیں ہوتی مگر یہ اس کی بات کو نئے رنگ میں دوسرے لوگوں کے دماغ میں ڈال دیتا ہے۔جس سے اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں میں اشتعال پیدا ہو اور وہ جھگڑا کریں۔اب یہ تو ظاہر ہے کہ جھگڑے کے نتیجہ میں فساد ہوتا ہے۔صلاح تو پیدا نہیں ہوتی۔“ ( خطبات ناصر، خطبہ جمعہ فرموده ۱۱/ اگست ۱۹۷۲ء جلد ۴ صفحه ۳۲۳) بَاب ٣٥ : إِذَا قَضَى الْحَاكِمُ بِجَوْرٍ أَوْ خِلَافِ أَهْلِ الْعِلْمِ فَهُوَ رَةٌ اگر حاکم ظالمانہ فیصلہ کرے یا اہل علم کے خلاف فیصلہ کرے تو وہ فیصلہ رڈ ہو گا ۷۱۸۹: حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا ۷۱۸۹: محمود نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الرزاق عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ نے ہمیں بتایا۔معمر نے ہم سے بیان کیا۔معمر نے الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ زہری سے ، زہری نے سالم سے، سالم نے حضرت بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابن عمر سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید) کو بھیجا۔نیز ابو عبد اللہ نعیم بن حماد نے مجھ سے بیان کیا کہ عبد اللہ بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔معمر نے ہم سے بیان کیا۔معمر نے أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ زہری سے، زہری نے سالم سے، سالم نے اپنے عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ باپ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولیڈ کو بنو جذیمہ کی جَدِيمَةَ فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا طرف بھیجا اور اُن لوگوں نے اچھی طرح نہ کہا کہ خَالِدًا ح وَحَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ