صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 438 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 438

۹۳ - كتاب الأحكام صحیح البخاری جلد ۱۶ تأمِيرِى أَسَامَةَ وَلَئِن طَعَدْتُمْ فِي إِمَارَتي أَسَامَةَ لَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَيْ آبَاهُ مِنْ قَبْلِهِ وَايْمُ الله إن كَانَ لِلْإِمَارَةِ لَخَلِيفًا وَإِنَّ ابْنَهُ مِنْ بَعْدِهِ لَخَلِيْق لِلْإِمَارَةِ وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبَّ النَّاسِ إلَى وَإِنَّهُمَا لمُخِيلَانِ لِكُلِّ خَيْرٍ وَاسْتَوْصُوا بِهِ خَيْرًا فَإِنَّهُ مِنْ خِيَارِكُمْ۔یہ کہہ کر آپ منبر سے اترے اور گھر کو کوئے۔تقریباً یہی مضمون روایات باب کا ہے۔اس لئے حضرت اسامہ کے بارے میں میری تمہیں بھلائی ہی کی وصیت ہے کیونکہ وہ اچھے لوگوں میں سے ہے۔محمد بن سعد کی روایت کے مطابق یہ واقعہ دس ربیع الاول ہفتہ کے روز کا ہے۔“ ترجمه و شرح صحیح بخاری جلد ۹ صفحه ۳۵۷) بَاب ٣٤ : الأَلَدُّ الْخَصِمُ وَهُوَ الدَّائِمُ فِي الْخُصُومَةِ سخت جھگڑالو یعنی جو ہمیشہ ہی جھگڑا کر تا رہے۔لدا (مريم: ۹۸) عُوجًا أَلَدُّ أَعْوَجُ۔لذا کے معنے ہیں ٹیڑھے۔(اور اس کی واحد ہے: الله یعنی ٹیڑھا، کج رو۔۷۱۸۸: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۷۱۸۸ مدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحی بن يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ سعید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن جریج سے سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يُحَدِّثُ عَنْ روایت کی کہ میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا۔وہ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے تھے کہ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: آدمیوں میں سے سب سے زیادہ قابل أَبْغَضُ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ نفرت اللہ کے نزدیک وہ جھگڑالو ہے جو ہمیشہ الْخَصِمُ۔أطرافه : ٢٤٥٧، ٤٥٢٣۔جھگڑ تا رہتا ہے۔لألتُ الْخَصِيمِ وَهُوَ الدَّائِمُ فِي الْخُصُومَةِ : سخت جھگڑالو یعنی جو ہمیشہ ہی جھگڑا کرتا رہے۔علامہ ابن حجر لکھتے ہیں: "الل للہ سے اسم تفضیل ہے۔لدد کے معنی ہیں شدّه الْخُصُوْمَةِ خِصَامُ - حَضَم کی جمع ہے، بروزن كلب وَ كِلاب اور خصام مصدر بھی ہے، خاصم خصاما بروزن قاتل قتالا یعنی خصومت میں نہایت سخت ہے۔انتہائی شدت مراد ہے اور بمعنی اسم فاعل وارد ہوا ہے۔“ (فتح الباری جزء ۸ صفحه ۲۳۶)