صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 437
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۷م ۹۳ - كتاب الأحكام فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي اگر تم اس کی امارت پر نکتہ چینی کرتے ہو، تم اس إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ سے پہلے اس کے باپ کی امارت پر طعن کیا کرتے لَخَلِيفًا لِلْإِمْرَةِ وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَدٍ تھے اور اللہ کی قسم وہ امارت کے لائق تھا اور ان النَّاسِ إِلَيَّ وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَتِ لوگوں میں سے تھا جو مجھے بہت پیارے ہیں اور النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ۔اس کے بعد یہ بھی ان لوگوں میں سے ہے جو مجھے أطرافه : ۳۷۳۰، ٤٢٥٠ ٤٤٦٨ ٤٤٦٩ ٦٦٢٧- بہت پیارے ہیں۔تشريح : مَنْ لَمْ يَكْتَرِثُ بِطَعْنِ مَنْ لَا يَعْلَمُ فِي الْأُمَرَاءِ حَدِيثًا: جو شخص اُن لوگوں کے طعنوں کی پرواہ نہ کرے جو امیروں کے متعلق لاعلمی میں ہوں۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: " جس جنگ میں حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سپہ سالار مقرر کئے گئے تھے جس پر بعض کو اعتراض ہوا، اس فوج میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر جیسے اعلیٰ پایہ کے صحابہ بھی تھے۔انہیں اعتراض نہیں ہو ابلکہ انشراح صدر سے ایک کمسن نوجوان کی ماتحتی قبول کی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس تقریر میں کئی مصلحتیں مد نظر تھیں۔امام ابن حجر نے ان میں سے بعض کا ذکر کیا ہے یعنی کبر سنی، عظمت رتبہ یا خاندانی بڑائی ہی سے اہلیت پیدا نہیں ہو جاتی بلکہ اس کے لئے دوسری بھی شرائط ہیں۔صغرسنی، پستی رتبہ یا کم مائیگی اور حسب و نسب میں حقیر سمجھا جانا قابلیت و اہلیت کے مانع نہیں۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۱۱۱) غلامی عربوں کے نزدیک ایسا داغ سمجھا جاتا تھا جو مٹانے سے نہیں مٹ سکتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اسوہ حسنہ سے یہ داغ یکسر مٹا دیا۔غلام و آقا کو یکساں ہموار سطح پر کھڑا کر دیا۔عَلَيْهِ صَلَوَاتُ اللهِ أَلْفَ أَلفَ صَلَوَاتٍ ( ترجمه و شرح صحیح بخاری جلدی صفحه ۲۲۶) نیز فرمایا: ابن سعد کے بیان میں بھی ذکر ہے کہ حضرت اسامہ بن زید کی امارت پر اعتراض کیا گیا کہ جلیل القدر اور تجربہ کار صحابہ کو چھوڑ کر اُن پر ایک ناتجربہ کار نوجوان امیر بنا دیا گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر بیماری کی حالت ہی میں سر باندھے مخملی چادر لیے تشریف لائے اور صحابہ کو مخاطب فرمایا: أَمَّا بَعْدُ: أَيُّهَا النَّاسِ فَمَا مَقَالَةَ بَلَغَتْنِي عَنْ بَعْضِكُمْ فِي