صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 437
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۳۷ ۹۳ - كتاب الأحكام فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي اگر تم اس کی امارت پر نکتہ چینی کرتے ہو، تم اس إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ وَايْمُ اللهِ إِنْ كَانَ سے پہلے اس کے باپ کی امارت پر طعن کیا کرتے لَخَلِيقًا لِلْإِمْرَةِ وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ تھے اور اللہ کی قسم وہ امارت کے لائق تھا اور ان النَّاسِ إِلَيَّ وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ لوگوں میں سے تھا جو مجھے بہت پیارے ہیں اور اس کے بعد یہ بھی ان لوگوں میں سے ہے جو مجھے النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ۔ أطرافه : ۳۷۳۰ ، ٤٢٥٠ ٤٤٦٨، ٤٤٦٩، ٦٦٢٧۔ بہت پیارے ہیں۔ تشريح : مَنْ لَمْ يَكْتَرِفْ بِطَعْنِ مَنْ لَا يَعْلَمُ فِي الْأَمْرَاءِ حَدِيثًا: جوشخص اُن لوگوں کے طعنوں کی پرواہ نہ کرے جو امیروں کے متعلق لا علمی میں ہوں۔ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: جس جنگ میں حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سپہ سالار مقرر کئے گئے تھے جس پر بعض کو اعتراض ہوا، اس فوج میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ جیسے اعلیٰ پایہ کے صحابہ بھی تھے۔ انہیں اعتراض نہیں ہوا بلکہ انشراح صدر سے ایک کمسن نوجوان کی ماتحتی قبول کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس تقرر میں کئی مصلحتیں مد نظر تھیں۔ امام ابن حجر نے ان میں سے بعض کا ذکر کیا ہے یعنی کبر سنی، عظمت رتبہ یا خاندانی بڑائی ہی سے اہلیت پیدا نہیں ہو جاتی بلکہ اس کے لئے دوسری بھی شرائط ہیں۔ صغر سنی، پستی رتبہ یا کم مائیگی اور حسب و نسب میں حقیر سمجھا جانا قابلیت و اہلیت کے مانع نہیں۔ (فتح الباری جزءے صفحہ (۱۱) غلامی عربوں کے نزدیک ایسا داغ سمجھا جاتا تھا جو مٹانے سے نہیں مٹ سکتا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اسوۂ حسنہ سے یہ داغ یکسر مٹا دیا۔ غلام و آقا کو یکساں ہموار سطح پر کھڑا کر دیا۔ عَلَيْهِ صَلَوَاتُ اللهِ أَلْفَ أَلْفَ صَلَوَاتٍ “ (ترجمہ و شرح صحیح بخاری جلد ۷ صفحہ ۲۲۶) نیز فرمایا: ” ابن سعد کے بیان میں بھی ذکر ہے کہ حضرت اسامہ بن زید کی امارت پر اعتراض کیا گیا کہ جلیل القدر اور تجربہ کار صحابہ کو چھوڑ کر اُن پر ایک ناتجربہ کار نوجوان امیر بنا دیا گیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر بیماری کی حالت ہی میں سر باندھے مخملی چادر لپیٹے تشریف لائے اور صحابہ کو مخاطب فرمایا : أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسِ فَمَا مَقَالَةَ بَلَغَتْنِي عَنْ بَعْضِكُمْ فِي