صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 433
صحیح البخاری جلد ۱۶ سم سم سوم ۹۳ - كتاب الأحكام کا سلسلہ صرف حدود شریعت تک ہی ختم نہیں ہو جاتا بلکہ اس کے بعد قضاء و قدر کا سلسلہ بھی چلتا ہے جس کی طرف بحوالہ آیت اشارہ کیا گیا ہے، پوری آیت یہ ہے: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَايْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أوليكَ لا خَلَاقَ لَهُمُ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيم ه ( آل عمران : ۷۸) جو لوگ اپنے عہدوں اور قسموں کے بدلے میں تھوڑی قیمت لیتے ہیں ان لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا اور روز قیامت اللہ ان سے بات نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک ٹھہرائے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب مقدر ہے۔(ترجمه و شرح صحیح بخاری جلد ۴ صفحه ۷۳۸) ثَمَنًا قَلِيلًا : حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: ( تھوڑے مول) سے مراد دنیا کا عارضی فائدہ ہے جو زوال پذیر ہوتا ہے اور جو سزا بیان کی گئی ہے وہ نہایت سخت ہے اور آیت سے پایا جاتا ہے کہ اسلامی تعلیم کی اصل بنیاد اس رابطہ پر ہے جو انسان اور اس کے خالق کے درمیان ہے اور وہ رابطہ عبودیت ہے۔جو اس رابطے کو توڑ تا ہے اور دنیا کے مفاد سے متعلق اپنی خواہش نفس کو مقدم کرتا ہے اس کی سزا بھی اس جرم کی نوعیت کے اعتبار سے ویسی ہی بیان کی گئی ہے۔یعنی تزکیہ نفس، نظر شفقت اور اللہ تعالیٰ کی ہم کلامی سے محرومی، ہر خیر و برکت سے تہی دستی اور اللہ تعالیٰ کے قرب سے دوری۔جس کی وجہ سے ایسا راندہ درگاہ انسان درد ناک سزا میں مبتلا ہو گا جبکہ وہ دیکھے گا کہ مقربین کا گروہ نعماء جنت سے محظوظ ہو رہا ہے۔(ترجمه و شرح صحیح بخاری، جلد ۱۰ صفحه ۱۳۱، ۱۳۲) نیز فرمایا: اگر ملکیت جائز نہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شہادت یا قسم کی بناء پر قضیہ چکانے کا مشورہ نہ دیتے۔جس آیت کا ذکر حدیث میں آیا ہے، وہ مکمل طور پر یہ ہے: اِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَ أَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَبِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ) (آل عمران: ۷۸) جو لوگ اللہ کے ساتھ اپنے عہدوں اور قسموں کے بدلے میں تھوڑی قیمت لیتے ہیں، ان لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا اور قیامت کے دن اللہ اُن سے کلام نہیں کرے گا اور نہ اُن کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک ٹھہرائے گا اور اُن کے لئے دردناک سزا مقدر ہے۔( ترجمه و شرح صحیح بخاری، جلد ۴ صفحه ۳۵۲)