صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 432
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۹۳ - كتاب الأحكام أَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا (آل عمران: ۷۸) ہوتا ہے تو وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ الآية۔اُس سے ناراض ہو گا۔پھر اللہ نے یہ آیت نازل کی: جو لوگ اللہ کے ساتھ اپنے عہدوں اور قسموں کے بدلے میں تھوڑی قیمت لیتے ہیں اُن لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔أطرافه : ٢٣٥٦، ٢٤١٦، ،٢٦٦٦ ،٦٦٥٩ ،٢٦٦٩، ٢٦٧٣ ،٢٦٧٦ ،٤٥٤٩ ٦٦٧٦ ٧٤٤٥۔٧١٨٤: فَجَاءَ الْأَشْعَثُ وَعَبْدُ اللهِ :۷۱۸۴ پھر حضرت اشعث آئے اور حضرت يُحَدِّثُهُمْ فَقَالَ فِيَّ نَزَلَتْ وَفِي رَجُلٍ عبد اللہ لوگوں سے یہ بیان کر رہے تھے کہنے لگے خَاصَمْتُهُ فِي بِشْرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى میرے متعلق اور ایک شخص کے متعلق یہ آیت نازل اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَكَ بَيْنَةٌ؟ قُلْتُ لَا ہوئی تھی جس کے ساتھ ایک کنوئیں کے متعلق قَالَ فَلْيَحْلِفْ قُلْتَ إِذَا يَحْلِفُ میں نے جھگڑا کیا تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فَنَزَلَتْ إِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے ؟ میں نے کہا۔نہیں۔آپ نے فرمایا: پھر وہ قسم کھائے۔میں نے کہا: تب تو وہ قسم کھالے گا۔تب یہ آیت نازل ہوئی یعنی جو لوگ اللہ کے ساتھ اپنے (آل عمران: ۷۸) الآية۔عہدوں کے بدلے میں تھوڑی قیمت لیتے ہیں۔أطرافه : ٢٣٥٧، ٢٤١٧، ٢٥١٦، ٢٦٦٧ ، ٢٦٧٠، ٢٦٧٧، ٤٥٥٠، ٦٦٦٠ ٦٦٧٧- ريح : الحُكْمُ فِي الْبِثْرِ وَنَحْوِهَا: کنویں وغیرہ کے متعلق فیصلہ کرنا۔حضرت سید زین العابدین ولی شاہ فرماتے ہیں: دار القضاء سے متعلقہ احکام تحقیق میں سے پہلا حکم یہی ہے کہ قاضی مدعی یا مستغیث - شہادت کا مطالبہ کرے اور شہادت کی عدم موجودگی میں مدعاعلیہ کو قسم دی جائے۔ایسی صورت میں مدعی کو شبہ پیدا ہونا طبعی امر ہے کہ مبادا مد عاعلیہ جھوٹی قسم کھالے جیسا کہ حضرت اشعث بن قین کو یہودی مدعا علیہ کی نسبت پیدا ہوا۔محض اسی شبہ سے قاضی قواعد عدالت کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔قواعد شریعت کی پابندی بہر حال ضروری ہے کیونکہ جزا سزا