صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 434 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 434

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۳ - كتاب الأحكام بَاب ۳۱ : الْقَضَاءُ فِي كَثِيرِ الْمَالِ وَقَلِيلِهِ بہت یا تھوڑے مال کے متعلق فیصلہ کرنا وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ اور ابن عیینہ نے ابن شبرمہ سے تھے ابن شبرمہ سے نقل کیا: تھوڑے الْقَضَاءُ فِي قَلِيلِ الْمَالِ وَكَثِيرِهِ سَوَاءٌ یا بہت مال میں فیصلہ یکساں ہے۔ ٧١٨٥: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۷۱۸۵: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زہری سے روایت الزُّبَيْرِ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ کی ۔ عروہ بن زبیر نے مجھے خبر دی کہ حضرت أَخْبَرَتْهُ عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ زينب بن ابی سلمہ نے انہیں بتایا۔ اُنہوں نے اپنی سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ماں حضرت ام سلمہ سے روایت کی۔ وہ بیان کرتی جَلَبَةَ خِصَامٍ عِنْدَ بَابِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دروازے کے فَقَالَ لَهُمْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّهُ يَأْتِينِي پاس جھگڑے کا شور سنا تو آپ اُن کے پاس باہر گئے اور فرمایا: میں ایک بشر ہی ہوں اور میرے الْخَصْمُ فَلَعَلَّ بَعْضًا أَنْ يَكُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ أَقْضِي لَهُ بِذَلِكَ وَأَحْسِبُ پاس جھگڑا کرنے والے آتے ہیں تو شاید کوئی کسی سے زیادہ بلیغ ہو۔ میں اس کے حق میں اس أَنَّهُ صَادِقٌ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ جھگڑے کے متعلق فیصلہ کر دوں اور یہ سمجھوں کہ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ وہ سچا ہے تو جس کے لئے میں کسی مسلمان کا حق فَلْيَأْخُذْهَا أَوْ لِيَدَعْهَا ۔ أطرافه : ٢٤٥٨ ، ٢٦٨٠ ، ٦٩٦٧، ٧١٦٩، ٧١٨١۔ دلانے کا فیصلہ کروں تو وہ ایک آگ کا ٹکڑاہی ہوتا ہے چاہے اس کو لے یا چاہے اس کو چھوڑ دے۔ تشريح : الْقَضَاءُ فِي كَثِيرِ الْمَالِ وَقَلِيلِهِ : بہت یا تھوڑے مال کے متعلق فیصلہ کرنا۔ ابن منیر کہتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری نے گزشتہ عنوانِ باب (نمبر (۲۹) میں کسی کے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی تخصیص (کے ذکر) کے متعلق خدشہ محسوس کیا (کہ کہیں کوئی معمولی اشیاء کو ناحق لے لینے کو ہلکا نہ سمجھے ) لہذا انہوں نے یہ عنوان قائم کیا ہے کہ ہر چیز کے متعلق خواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ، فیصلہ کرنا تو عمومیت رکھتا ہے۔ پھر امام بخاری نے حضرت ام سلمہ سے مروی معنونہ حدیث جو گزشتہ باب میں بھی مذکور ہے ، بیان کر کے توجہ