صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 426
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۲۶ ۹۳ - كتاب الأحكام کرو کہ خدا تعالیٰ اس سے بچاوے۔جو انسان داخل سلسلہ ہو کر پھر بھی دو رنگی اختیار کرتا ہے تو وہ اس سلسلہ سے دور رہتا ہے، اس لیے خدا تعالیٰ نے منافقوں کی جگہ اسفل السافلین رکھی ہے کیونکہ ان میں دورنگی ہوتی ہے اور کافروں میں یک رنگی ہوتی ہے۔“ بَابِ ۲۸: الْقَضَاءُ عَلَى الْغَائِبِ غیر حاضر کے برخلاف فیصلہ کرنا ( ملفوظات جلد ۳ صفحه ۴۵۶،۴۵۵ ۷۱۸۰: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ۷۱۸۰: محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔سفیان نے ہشام سے، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ هِنْدًا ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ فَأَحْتَاجُ ہند نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ابوسفیان أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ قَالَ خُذِي مَا بہت ہی کنجوس شخص ہے مجھے اس کے مال سے لینے يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ۔کی ضرورت پڑتی ہے۔آپ نے فرمایا: دستور کے مطابق لے لو جو تمہیں اور تمہاری اولاد کو کافی ہو۔أطرافه : ۲۲۱۱، ۲٤٦۰ ،۳۸۲۵، ٥۳۵۹، ٥٣٦٤ ٥٣٧٠، ٦٦٤١، ٧١٦١۔ریح : الْقَضَاءُ عَلَى الْغَائِبِ : غیر حاضر کے برخلاف فیصلہ کرنا۔علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ علماء کا اس امر پر اتفاق ہے کہ لوگوں کے حقوق کے متعلق تو غیر حاضر کے خلاف فیصلہ دیا جاسکتا ہے لیکن حدود اللہ کے متعلق نہیں۔مثلاً اگر چوری کے معاملہ میں غیر حاضر کے خلاف گواہی ثابت ہو جائے تو مال دلائے جانے کا تو حکم دیا جائے گا لیکن ہاتھ کاٹنے کا نہیں۔امام مالک کے نزدیک زمین اور غیر منقولہ جائیداد کے متعلق اگر غائب کے خلاف دلائل ثابت ہوں تو فیصلہ دینا اسی صورت میں درست ہے کہ اُس کی غیر حاضری لمبی ہو جائے یا ہ مفقود الخبر ہو۔امام ابو حنفیہ کا قول ہے کہ غائب کے خلاف فیصلہ نہ کیا جائے ، ہاں اگر کوئی گواہی قائم ہونے کے بعد بھاگ جائے یا چھپ جائے تو قاضی اُسے حاضر کیے جانے کا تین بار فرمان جاری کرے، اگر وہ آجائے تو فبہا، وگرنہ اُس کے خلاف فیصلہ صادر کر دے۔علامہ ابن حجر فقہاء کا اختلاف ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ جنہوں نے اسے جائز قرار دیا ہے وہ بھی یہ کہتے ہیں کہ غائب کی دلیل اس کے حاضر ہونے پر پیش ہو سکتی ہے اور سن کر اس کے وہ